دنیا کی کوئی حکومت اے آئی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے تیار نہیں، بل گیٹس

دنیا کی کوئی حکومت اے آئی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے تیار نہیں، بل گیٹس

لندن: مائیکروسافٹ کے شریک بانی اور معروف ٹیکنالوجی شخصیت بل گیٹس نے خبردار کیا ہے کہ دنیا کی کوئی بھی حکومت مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے نتیجے میں معاشرے میں آنے والی بڑی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں، جبکہ ٹیکنالوجی کے تیزی سے پھیلاؤ کے ساتھ ملازمتوں، سائبر سکیورٹی اور انسانی رویوں سے متعلق نئے خطرات بھی سامنے آسکتے ہیں۔

رائٹرز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بل گیٹس نے کہا کہ حکومتیں اے آئی کی رفتار کے مقابلے میں پیچھے رہ گئی ہیں۔ ان کے مطابق کسی بھی حکومت نے ابھی تک اس سطح پر تیاری نہیں کی جس کی اے آئی کے باعث معاشرے اور معیشت میں آنے والی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے ضرورت ہے۔بل گیٹس نے اے آئی کے ممکنہ اثرات میں ملازمتوں کے متاثر ہونے، سائبر حملوں کے خدشات اور اے آئی کمپیننز پر لوگوں کے حد سے زیادہ انحصار یا لت میں مبتلا ہونے جیسے مسائل کی نشاندہی کی۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں وہ اے آئی کے مستقبل کے حوالے سے زیادہ پرامید تھے، تاہم اب انہوں نے اس ٹیکنالوجی کے خطرات کو زیادہ سنجیدگی سے دیکھنا شروع کیا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ ان خدشات کے باوجود اے آئی میں دنیا کے غریب اور کم وسائل رکھنے والے طبقات کے لیے نمایاں فوائد پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ ان کے مطابق اگر ٹیکنالوجی تک رسائی منصفانہ انداز میں یقینی بنائی جائے اور اسے مناسب طریقے سے استعمال کیا جائے تو اے آئی امیر اور غریب کے درمیان فرق کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔اسی مقصد کے تحت گٹس فاؤنڈیشن نے اگلے دو برسوں کے دوران کم از کم ایک ارب ڈالر خرچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ فاؤنڈیشن کے مطابق یہ رقم تعلیم، صحت اور زراعت کے شعبوں میں اے آئی سے متعلق منصوبوں اور ٹیکنالوجی تک رسائی بہتر بنانے کے لیے استعمال کی جائے گی۔

گٹس فاؤنڈیشن کے منصوبے میں ایسے اے آئی نظام اور ڈیٹا انفراسٹرکچر کی تیاری بھی شامل ہے جو دنیا بھر میں مختلف زبانوں میں کام کرسکے۔ فاؤنڈیشن کے مطابق دنیا کی بڑی تعداد میں بولی جانے والی زبانیں موجودہ اے آئی ماڈلز میں مناسب نمائندگی نہیں رکھتیں، جس کے باعث ان زبانوں کے بولنے والے افراد جدید ٹیکنالوجی کے فوائد سے مکمل طور پر مستفید نہیں ہو پاتے۔بل گیٹس نے صحت کے شعبے میں اے آئی کے امکانات کو خاص طور پر نمایاں قرار دیا۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت طبی کارکنوں کی معاونت، بیماریوں کی تشخیص اور نئی ادویات و ویکسینز کی دریافت کے عمل کو تیز کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ گٹس فاؤنڈیشن کے مطابق اس کی مجوزہ سرمایہ کاری کا ایک بڑا حصہ صحت اور تعلیم کے شعبوں میں اے آئی کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے مختص کیا جائے گا۔بل گیٹس نے دنیا بھر کی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ اے آئی کے ممکنہ خطرات اور مواقع سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون بڑھائیں۔ انہوں نے اے آئی کا موازنہ ایسی قدرتی آفات پر مبنی فلموں سے کیا جن میں کسی بڑے خطرے کے سامنے آنے پر مختلف ممالک مشترکہ طور پر مسئلے کا سامنا کرتے ہیں۔ ان کے مطابق اے آئی کو ایک ایسی نئی قسم کی ’’اجنبی ذہانت‘‘ تصور کیا جاسکتا ہے جو اب انسانی معاشرے کا حصہ بن چکی ہے اور اس کے لیے اجتماعی تیاری ضروری ہے۔

اس سے قبل اگست 2026 میں اپنی ایک تحریر میں بھی بل گیٹس نے اے آئی اور روبوٹس کے باعث مستقبل میں متعدد ملازمتوں کے متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔ انہوں نے تجویز دی تھی کہ بعض ایسے شعبے جہاں انسانی موجودگی بنیادی اہمیت رکھتی ہے، وہاں ملازمتوں کو انسانوں کے لیے مخصوص رکھنے پر غور کیا جائے تاکہ ٹیکنالوجی مکمل طور پر انسانی کردار کی جگہ نہ لے سکے۔بل گیٹس کے مطابق طبی شعبہ ان شعبوں میں شامل ہے جہاں انسانی کردار مستقبل میں بھی انتہائی اہم رہ سکتا ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے انسانی ہمدردی اور مریض کو مشکل طبی صورتحال سے آگاہ کرنے جیسے معاملات کی مثال دی۔دوسری جانب اے آئی کے ممکنہ معاشی و سماجی خطرات کے ساتھ اس کے فوائد پر بھی عالمی سطح پر توجہ بڑھ رہی ہے۔ گٹس فاؤنڈیشن کا مؤقف ہے کہ اے آئی کو صرف زیادہ آمدنی رکھنے والے ممالک اور طبقات تک محدود رکھنے کے بجائے اس طرح ترقی دی جانی چاہیے کہ ترقی پذیر ممالک اور کم وسائل رکھنے والی آبادی بھی اس کے فوائد سے مستفید ہوسکے۔