پاکستان حکومت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے متوقع احتجاج سے نمٹنے کے لیے جامع سکیورٹی پلان تیار کر لیا ہے اور اسلام آباد کے تمام داخلی راستوں کو بند کر دیا گیا ہے۔
حکومتی اقدامات کے تحت مختلف اہم سڑکوں اور شاہراہوں پر کنٹینرز لگا کر راستے بلاک کر دیے گئے ہیں تاکہ مظاہرین کی پیش قدمی روکی جا سکے۔
سکیورٹی انتظامات
ایران ایونیو اور مارگلہ روڈ دونوں اطراف سے کنٹینرز لگا کر بند کر دی گئی ہیں۔ایکسپریس وے، ڈی چوک اور زیرو پوائنٹ پر بھی کنٹینرز کھڑے کر دیے گئے ہیں۔میٹرو بس سروس اسلام آباد میں آئی جے پی روڈ سے پاک سیکرٹریٹ تک بند رہے گی اور جڑواں شہروں میں 25 نومبر تک مکمل طور پر بند رہے گی۔راولپنڈی کے تمام انٹر سٹی ٹرانسپورٹ اڈے بھی بند کر دیے گئے ہیں۔
پولیس نفری کی تعیناتی
احتجاج سے نمٹنے کے لیے پولیس کی 30,000 اضافی نفری اسلام آباد پہنچ گئی ہے۔پنجاب سے 19,000، سندھ سے 5,000، آزاد کشمیر سے 1,000 اور ایف سی کے 5,000 اہلکار اسلام آباد تعینات کیے گئے ہیں، جو اسلام آباد پولیس کی معاونت کریں گے۔
موٹروے کی بندش
پشاور سے اسلام آباد اور لاہور سے اسلام آباد تک موٹروے کو بند کر دیا گیا ہے۔لاہور سے عبدالحکیم (M-3) اور M-4 پنڈی بھٹیاں سے ملتان، M-11 سیالکوٹ سے لاہور تک بند رہیں گے۔
دفعہ 144 کی نافذ
پنجاب حکومت نے 23 سے 25 نومبر تک صوبے بھر میں دفعہ 144 نافذ کر دی ہے، جس کے تحت کسی بھی قسم کے احتجاج، جلسے، جلوس، ریلیوں اور دھرنوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔سکیورٹی خدشات کے پیش نظر، حکومت کا کہنا ہے کہ عوامی اجتماعات دہشت گردوں کے لیے سافٹ ٹارگٹ بن سکتے ہیں اور شرپسند عناصر ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہو سکتے ہیں۔
حکومت کے اقدامات
وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے ان اقدامات کو امن و امان برقرار رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے ضروری قرار دیا ہے۔کابینہ کمیٹی برائے امن و امان کے اجلاس میں دفعہ 144 کے نفاذ کی سفارش کی گئی تھی، جو اب مکمل طور پر نافذ ہو چکی ہے۔