یمن کے ساحلی شہر موخا پر سعودی فضائی حملے، 6 افراد جاں بحق، 8 زخمی

یمن کے ساحلی شہر موخا پر سعودی فضائی حملے، 6 افراد جاں بحق، 8 زخمی

صنعا: یمن کے بحیرۂ احمر کے اہم بندرگاہی شہر موخا پر سعودی قیادت میں اتحادی فورسز کے فضائی حملوں میں کم از کم 6 افراد جاں بحق اور 8 زخمی ہوگئے۔

ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد حوثیوں سے وابستہ خبر رساں ادارے ’صبا‘ کی رپورٹ میں بتائی گئی ہے۔حوثی ذرائع کے مطابق فضائی حملوں میں جاں بحق ہونے والوں میں 2 بچے اور ایک خاتون بھی شامل ہیں، جبکہ زخمیوں میں ایک بچہ اور ایک خاتون شامل ہیں۔ تاہم ہلاکتوں اور زخمیوں سے متعلق یہ تفصیلات حوثی ذرائع کی جانب سے سامنے آئی ہیں اور ان کی آزادانہ طور پر فوری تصدیق نہیں ہوسکی۔موخا بحیرۂ احمر کے ساحل پر واقع ایک اہم بندرگاہی شہر ہے اور حالیہ دنوں میں یمن کی جنگ کے دوران اس کی تزویراتی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ حوثی فورسز نے حالیہ ہفتوں میں بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقوں میں پیش قدمی کرتے ہوئے موخا سمیت اہم علاقوں پر قبضہ کیا ہے، جس کے بعد سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت کے لیے صورتحال مزید پیچیدہ ہوگئی ہے۔رپورٹس کے مطابق حوثیوں کی پیش قدمی بحیرۂ احمر اور باب المندب کے قریب تک پہنچ چکی ہے، جو عالمی بحری تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ سمجھا جاتا ہے۔ اس علاقے میں کشیدگی بڑھنے سے تجارتی جہاز رانی، توانائی کی ترسیل اور خطے میں بحری سلامتی کے حوالے سے خدشات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

دوسری جانب یمن کی گورننگ کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر رابطہ کرکے حوثیوں کے خلاف سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت کے لیے امریکی مدد طلب کی۔ چار ذرائع کے مطابق گفتگو میں باب المندب کے قریب حوثیوں کی حالیہ پیش قدمی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ذرائع کے مطابق رشاد العلیمی نے امریکی حمایت کی درخواست کی تاہم ٹرمپ نے اس گفتگو کے دوران براہِ راست فوجی مدد فراہم کرنے کا کوئی وعدہ نہیں کیا۔ وائٹ ہاؤس اور یمن کے وزیر اطلاعات کی جانب سے فوری طور پر اس معاملے پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔یمن میں حالیہ لڑائی ایسے وقت میں شدت اختیار کر رہی ہے جب سعودی عرب اور اس کے اتحادی حوثیوں کی پیش قدمی کا مقابلہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دوسری جانب حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف ڈرون اور میزائل حملوں کے دعوے بھی سامنے آتے رہے ہیں، جس کے نتیجے میں تنازع کے علاقائی اثرات بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

موخا اور باب المندب کے اطراف بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی تجارت کے لیے بھی تشویش پیدا کردی ہے، کیونکہ باب المندب بحیرۂ احمر کو خلیج عدن اور آگے بحر ہند سے ملانے والا اہم بحری راستہ ہے۔ خطے میں مسلسل فوجی کارروائیوں کے باعث بحری راستوں کے تحفظ اور توانائی کی عالمی ترسیل پر ممکنہ اثرات پر بھی نظر رکھی جا رہی ہے۔