ممبئی: بالی ووڈ کی معروف اداکارہ کترینہ کیف کی والدہ سوزین ٹرکوٹ گزشتہ کئی برس سے بھارت کے ایک دیہی علاقے میں انتہائی سادہ زندگی گزار رہی ہیں، جہاں وہ پسماندہ اور غریب بچوں کی تعلیم اور فلاح و بہبود کے لیے کام کر رہی ہیں۔
سوزین ٹرکوٹ نے 2008 میں لندن چھوڑ کر بھارت کی ریاست تامل ناڈو کا رخ کیا، جہاں انہوں نے پسماندہ طبقے سے تعلق رکھنے والے بچوں کی مدد کے لیے فلاحی ادارے ’ریلیف پروجیکٹس انڈیا‘ کے تحت کام شروع کیا۔فلاحی سرگرمیوں کے دوران سوزین نے بچوں کی تعلیم کو خصوصی اہمیت دی اور 2015 میں ’ماؤنٹین ویو اسکول‘ قائم کیا۔ یہ اسکول ابتدا میں 30 سے بھی کم بچوں کے لیے ایک نرسری کے طور پر شروع کیا گیا تھا، تاہم وقت کے ساتھ اس کا دائرہ وسیع ہوتا گیا اور اب یہاں 300 سے زائد بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔کترینہ کیف کے مطابق ان کی والدہ نے شہری اور نسبتاً آسائش بھری زندگی کے بجائے ایک ایسے علاقے میں رہنے کا انتخاب کیا جہاں بنیادی سہولیات بھی محدود ہیں۔ کئی مرتبہ وہاں طویل دورانیے تک بجلی دستیاب نہیں ہوتی جبکہ بعض اوقات انٹرنیٹ کی سہولت بھی موجود نہیں ہوتی۔اداکارہ نے بتایا کہ ان حالات کے باعث وہ اپنی والدہ سے کئی مرتبہ ویڈیو کال تک نہیں کر پاتیں، تاہم ان کی والدہ نے یہ طرزِ زندگی اپنی مرضی سے اختیار کیا ہے تاکہ وہ ضرورت مند افراد اور بچوں کی مدد کے لیے زیادہ وقت اور توانائی صرف کر سکیں۔
کترینہ کیف اپنی والدہ کے فلاحی مشن میں مالی معاونت بھی کرتی ہیں۔ ان کی والدہ کی جانب سے شروع کیا گیا کام اب صرف ایک اسکول تک محدود نہیں رہا بلکہ فلاحی ادارہ تامل ناڈو کے تقریباً 25 دیہات میں مختلف شعبوں میں سرگرم ہے۔ادارے کی سرگرمیوں میں بچوں کی تعلیم کے علاوہ خواتین کی فلاح و بہبود، صحت اور دیگر بنیادی سماجی ضروریات پر بھی کام شامل ہے۔ یوں سوزین ٹرکوٹ نے فلمی دنیا کی شہرت اور چمک دمک سے دور رہتے ہوئے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ پسماندہ طبقات کی خدمت کے لیے وقف کر رکھا ہے۔کترینہ کیف بھی متعدد مواقع پر اپنی والدہ کے فلاحی کاموں کا ذکر کر چکی ہیں اور ان کے اس فیصلے کو سراہتی ہیں۔ سوزین کی زندگی اس حوالے سے بھی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے کہ انہوں نے ذاتی آسائشوں کے بجائے دیہی علاقوں کے بچوں اور خواتین کی تعلیم و فلاح کو اپنی ترجیح بنایا۔