ایران سے غیر قانونی افغان مہاجرین کی ملک بدری کا عمل تیز تر

ایران سے غیر قانونی افغان مہاجرین کی ملک بدری کا عمل تیز تر

تہران: ایران میں غیر دستاویزی اور غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کی ملک بدری کا عمل تیز ہوگیا ہے۔

 اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (UNHCR) کے مطابق 29 اگست 2026 تک رواں سال ایران سے 4 لاکھ 4 ہزار 400 افغان شہریوں کو ملک بدر کیا جا چکا تھا، جبکہ ایران سے افغانستان واپس جانے والے افغان شہریوں کی مجموعی تعداد 4 لاکھ 84 ہزار 800 تک پہنچ گئی۔UNHCR کے اعداد و شمار کے مطابق 2026 میں افغانستان واپس بھیجے جانے والے افغانوں کی مجموعی تعداد 11 لاکھ 80 ہزار 700 تک پہنچ چکی ہے، جن میں ایران سے واپس آنے والوں کا حصہ نمایاں ہے۔ مجموعی ملک بدریوں میں بھی ایران کا حصہ سب سے زیادہ ہے۔اقوام متحدہ کے مطابق ایران سے ہونے والی واپسیوں میں ملک بدریاں ایک بڑا حصہ ہیں۔ 29 اگست تک ایران سے ملک بدر کیے جانے والے افغان شہریوں کی تعداد 4 لاکھ سے تجاوز کرچکی تھی، جبکہ پاکستان اور دیگر ممالک سے بھی افغان شہریوں کی واپسی کا سلسلہ جاری ہے۔بڑے پیمانے پر افغان شہریوں کی افغانستان واپسی نے پہلے سے دباؤ کا شکار ملک کے رہائشی وسائل، روزگار اور بنیادی سہولیات پر مزید دباؤ بڑھا دیا ہے۔ UNHCR کے مطابق بڑے پیمانے پر واپسی کے باعث افغانستان کے محدود انفرااسٹرکچر اور بنیادی خدمات پر اضافی بوجھ پڑ رہا ہے، جبکہ بہت سے واپس آنے والے افراد کے پاس جائیداد، اثاثے یا مناسب معاونت کے ذرائع موجود نہیں۔

رپورٹس کے مطابق ایران میں رہنے والے افغان شہریوں کے لیے موجودہ صورتحال معاشی مشکلات کے باعث بھی پیچیدہ ہوئی ہے۔ حالیہ عرصے میں ایران سے افغانستان واپس آنے والے بعض افغان شہریوں نے روزگار کی کمی، اجرتوں کی عدم ادائیگی اور بڑھتی مہنگائی کو واپسی کی اہم وجوہات میں شمار کیا ہے۔UNHCR کا کہنا ہے کہ ایران سے افغانستان واپسی کے عمل میں رضاکارانہ واپسی کے ساتھ ایسے افغان شہری بھی شامل ہیں جو ملک بدری کا سامنا کر رہے ہیں۔ ادارے نے ایران سے واپس آنے والے بعض غیر دستاویزی افغان شہریوں اور تحفظ کے زیادہ خطرات سے دوچار افراد کے لیے امدادی طریقہ کار بھی وضع کیا ہے۔اقوام متحدہ کے مطابق بڑے پیمانے پر واپسی افغانستان میں پہلے سے موجود انسانی اور معاشی مشکلات کو مزید بڑھا سکتی ہے۔ واپس آنے والے افراد کی بحالی، رہائش، روزگار اور بنیادی سہولیات تک رسائی ایک اہم چیلنج بن چکی ہے، جبکہ UNHCR نے مقامی سطح پر خدمات اور روزگار کے مواقع میں سرمایہ کاری کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔

ایران سے افغان شہریوں کی واپسی کا موجودہ سلسلہ خطے میں افغان مہاجرین کی نقل و حرکت سے متعلق پالیسیوں میں ہونے والی تبدیلیوں کی عکاسی کرتا ہے۔ تاہم اقوام متحدہ کا مؤقف ہے کہ واپسی کا عمل محفوظ، باوقار اور جہاں ممکن ہو رضاکارانہ ہونا چاہیے، جبکہ واپس آنے والوں کی بنیادی ضروریات اور تحفظ کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔