امریکی حکام نے غیر قانونی طور پر امریکا میں داخل ہونے والے 205 بھارتی شہریوں کو ڈی پورٹ کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق یہ تمام افراد بھارتی شہری ہیں، جن کی شہریت کی تصدیق مکمل ہونے کے بعد انہیں ملک بدر کیا گیا۔
ڈی پورٹ کیے گئے افراد کی تفصیلات:
امریکا میں امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی پر ان افراد کو امریکی ریاست ٹیکساس سے ڈی پورٹ کیا گیا۔ان افراد کو ایک امریکی فوجی طیارے کے ذریعے بھارت بھیجا گیا، جو آج روانہ ہوا۔
یہ ممکنہ طور پر پہلی پرواز ہے، اور مزید بھارتی شہریوں کو امریکا سے بے دخل کیے جانے کا امکان ہے۔
بھارت کی شمولیت اور سفارتی عمل:
بھارتی میڈیا کے مطابق امریکا سے ڈی پورٹ کیے جانے کے تمام مراحل میں بھارتی حکومت شامل رہی۔بھارتی حکام نے ان افراد کی شناخت کی تصدیق کے لیے امریکا کے ساتھ تعاون کیا۔امریکا میں موجود بھارتی سفارت خانے اور قونصل خانوں نے بھی اس عمل میں کردار ادا کیا۔
امریکی حکومت کی سخت امیگریشن پالیسی:
ان بھارتی شہریوں کی ملک بدری امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف سخت پالیسی کا حصہ ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران غیر قانونی تارکینِ وطن کے خلاف کارروائی کا وعدہ کیا تھا، جس پر عمل درآمد جاری ہے۔امریکی امیگریشن قوانین کے تحت غیر قانونی طور پر مقیم افراد کی ملک بدری میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔
مزید بے دخلیوں کا امکان:
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ پہلی پرواز ہے، اور مستقبل میں مزید بھارتی شہریوں کو بھی ملک بدر کیا جا سکتا ہے۔امریکی حکام نے بھارت سمیت دیگر ممالک سے آنے والے غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کارروائی مزید سخت کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
عالمی ردِعمل اور اثرات:
بھارت میں اس معاملے پر ملے جلے ردِعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔کچھ حلقے امریکا کی سخت پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں، جبکہ دیگر اسے قانون کی بالادستی قرار دے رہے ہیں۔
اس اقدام سے امریکا میں مقیم دیگر غیر قانونی بھارتی تارکین وطن کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی بج گئی ہے۔
نتائج اور امیگریشن قوانین کی سختی:
امریکا میں امیگریشن قوانین مزید سخت کیے جا رہے ہیں، جس کے باعث غیر قانونی طور پر امریکا میں رہائش پذیر افراد کے خلاف کارروائیاں بڑھ سکتی ہیں۔بھارتی حکومت بھی اس معاملے پر محتاط نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ مستقبل میں کسی بھی سفارتی تنازعے سے بچا جا سکے۔یہ معاملہ نہ صرف امریکا اور بھارت کے تعلقات بلکہ عالمی امیگریشن پالیسیوں پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔