ہزار اہلکاروں کی تعیناتی، اٹک 30 ہزار، راولپنڈی 9 ہزار اہلکار طلب
فیض آباد، 26 نمبر سمیت اہم مقامات پر کنٹینرز، 30 داخلی راستے بند ہونگے
اسلام آباد (بیورو رپورٹ) احتجاج اور لانگ مارچ کے پیش نظر مختلف صوبوں سے سکیورٹی ڈیوٹی کیلئے طلب کئے گئے پولیس اہلکاروں کی رہائش کیلئے وفاقی دارالحکومت کے 24 سرکاری تعلیمی ادارے آج (منگل) سے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وفاقی نظامت تعلیمات کے حکام کے مطابق اسلام آباد کے مختلف سیکٹرز میں واقع سکولز اور کالجز کو عارضی طور پر سکیورٹی اہلکاروں کی رہائش کیلئے استعمال کیا جائے گا۔ دستاویز کے مطابق جی-6/1، جی-6/2، ایف-6/4، ایف-7/2، جی-7/3، جی-8/1، جی-9/2، جی-9/3، جی-10/4، جی-13/2، آئی-9/4 اور آئی-10/2 سمیت دیگر علاقوں کے تعلیمی ادارے بند رہیں گے۔ بری امام، ملپور، ترنول، سہالہ، پہاگ پنوال، ایچ-9 اور راول ڈیم سمیت دیہی و مضافاتی علاقوں کے بعض ادارے بھی عارضی طور پر بند رہیں گے، تاہم دیگر سیکٹرز میں تعلیمی ادارے معمول کے مطابق کھلے رہیں گے۔اسلام آباد ضلعی انتظامیہ نے فورسز کی رہائش کیلئے 24 تعلیمی اداروں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ عارضی انتظامات کے تحت سکولز اور کالجز کے پرنسپلز اور غیر تدریسی عملہ معمول کے مطابق ڈیوٹی پر حاضر ہوگا جبکہ اساتذہ اور طلبہ کیمپس نہیں آئیں گے۔پولیس ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں 8 ڈپٹی انسپکٹر جنرلز کی نگرانی میں 22 ہزار سے زائد سکیورٹی اہلکار تعینات کئے جانے کی توقع ہے۔ خیبرپختونخوا اور پنجاب کو ملانے والے اہم راستوں کی نگرانی کیلئے اٹک میں تقریباً 30 ہزار اہلکار طلب کئے گئے ہیں جبکہ راولپنڈی پولیس نے سکیورٹی آپریشنز میں معاونت کیلئے مزید 9 ہزار اہلکار مانگ لئے ہیں۔ پنجاب کانسٹیبلری، رائٹ مینجمنٹ پولیس اور مختلف اضلاع سے بھی اضافی نفری طلب کی گئی ہے۔راولپنڈی کے سٹی پولیس آفیسر کے حکم پر شہر میں پولیس اہلکاروں کی چھٹیاں یکم اکتوبر تک منسوخ کردی گئی ہیں۔ پی ٹی آئی نے بانی کی رہائی کے مطالبے پر 27 ستمبر کو ملک گیر احتجاج اور اسلام آباد مارچ کا اعلان کر رکھا ہے، جبکہ جماعت اسلامی نے پٹرولیم لیوی اور کسان اتحاد نے ریلیف کے مطالبات پر احتجاج کا اعلان کیا ہے۔اسلام آباد انتظامیہ نے 13 ہوٹلز اور گیسٹ ہائوسز کے 132 کمروں میں 362 سینئر پولیس افسران و اہلکاروں کو ٹھہرانے کا انتظام کیا ہے۔ 8 ڈی آئی جیز کو جی-6 میلوڈی کے اسلام آباد ہوٹل جبکہ 10 ایس ایس پیز کو بلیو ایریا کے ایک ہوٹل میں رہائش دی جائے گی۔ مزید 40 ایس پیز، 58 ڈی ایس پیز اور 246 انسپکٹرز کو دیگر ہوٹلز اور گیسٹ ہائوسز میں ٹھہرایا گیا ہے۔دارالحکومت سے باہر سے آنے والے دیگر پولیس اور فرنٹیئر کانسٹیبلری اہلکاروں کو سرکاری عمارتوں، سکولز، کالجز، سپورٹس کمپلیکس، شادی ہالز اور پولیس سٹیشنز میں رہائش فراہم کی جارہی ہے۔ حکام نے جڑواں شہروں تک رسائی محدود کرنے کیلئے اہم مقامات پر کنٹینرز پہنچانا شروع کردیئے ہیں۔ریڈ زون میں صرف سرکاری و نجی دفاتر کے ملازمین کو داخلے کی اجازت ہوگی، جس کیلئے 2 راستے کھلے رکھے جائیں گے۔ وزارت داخلہ کے سکیورٹی پلان کے مطابق 30 داخلی راستے بند کئے جانے کی توقع ہے، جن میں راولپنڈی کے 11 راستے شامل ہیں۔ فیض آباد، چونگی نمبر 26، روات، چکری، اڈیالہ روڈ، پیرودھائی، بھارہ کہو اور 17 میل سمیت مختلف اہم مقامات پر کنٹینرز پہنچا دیئے گئے ہیں۔