لاہوربھر کی اوپن مارکیٹ میں سبزیوں اور پھلوں کی قیمتیں سرکاری نرخ نامے کے مقابلے میں کہیں زیادہ وصول کیے جانے کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث شہری مہنگائی کے اضافی بوجھ سے پریشان ہیں۔
دکانداروں کی جانب سے متعدد سبزیوں اور پھلوں کی سرکاری قیمت سے زائد نرخ وصول کیے جا رہے ہیں۔سرکاری نرخ نامے کے مطابق آلو کی قیمت 30 روپے فی کلو مقرر ہے، تاہم اوپن مارکیٹ میں آلو 43 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے۔ اسی طرح بینگن کی سرکاری قیمت 80 روپے کے مقابلے میں شہریوں کو 110 روپے فی کلو ادا کرنا پڑ رہے ہیں۔بھنڈی کی سرکاری قیمت 196 روپے فی کلو مقرر کی گئی ہے، لیکن اوپن مارکیٹ میں یہ 250 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہی ہے۔ ٹماٹر کی سرکاری قیمت 140 روپے کے مقابلے میں 170 روپے فی کلو وصول کیے جا رہے ہیں۔کریلے کی سرکاری قیمت 200 روپے فی کلو ہے، تاہم مارکیٹ میں اس کی قیمت 220 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔ گھیا کدو 160 روپے کے بجائے 200 روپے فی کلو جبکہ ساگ 60 روپے کی سرکاری قیمت کے مقابلے میں 100 روپے فی کلو فروخت کیا جا رہا ہے۔
پھلوں کی قیمتیں بھی سرکاری نرخ نامے سے زائد وصول کی جا رہی ہیں۔ سرکاری نرخ کے مطابق انگور کی قیمت 350 روپے فی کلو مقرر ہے، لیکن اوپن مارکیٹ میں انگور 470 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہے ہیں۔ امرود کی سرکاری قیمت 220 روپے کے مقابلے میں شہریوں سے 300 روپے فی کلو وصول کیے جا رہے ہیں۔شہریوں کا کہنا ہے کہ سرکاری نرخ نامے جاری ہونے کے باوجود مارکیٹ میں ان پر مؤثر عملدرآمد نہیں ہو رہا، جس کی وجہ سے انہیں روزمرہ استعمال کی اشیائے خورونوش مقررہ قیمت سے زیادہ نرخوں پر خریدنا پڑ رہی ہیں۔
شہریوں نے متعلقہ ضلعی انتظامیہ اور پرائس کنٹرول حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اوپن مارکیٹ میں سرکاری نرخ نامے پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے، قیمتوں کی باقاعدگی سے چیکنگ کی جائے اور زائد نرخ وصول کرنے والے دکانداروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔