لاہور: چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے لاہور پولیس کی کارکردگی اور عدالت میں جمع کروائی جانے والی رپورٹس کے معیار پر سخت اظہارِ ناراضی کیا ہے۔
عدالت نے پولیس افسران کی جانب سے عدالتی احکامات پر عملدرآمد اور رپورٹس کی تیاری کے معاملے پر سی سی پی او لاہور سے وضاحت بھی طلب کی۔چیف جسٹس عالیہ نیلم نے شہری مومن خان کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار نے 2021 میں اس وقت کے سی سی پی او فیاض احمد کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کی تھی۔سماعت کے دوران سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ اور ڈی آئی جی ایڈمن عمران کشور عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل محمد نوید شیخ اور اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل وقاص عمر بھی موجود تھے۔چیف جسٹس عالیہ نیلم نے سی سی پی او سے مکالمہ کرتے ہوئے پولیس کے عدالت کے ساتھ رویے پر سخت ناراضی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر عدالت کی جانب سے پولیس افسران کو طلب نہ کیا جائے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ عدالتی احکامات اور کارروائیوں کو نظر انداز کیا جائے۔
پولیس رپورٹس پر عدالت کی ناراضی
چیف جسٹس نے پولیس کی جانب سے عدالت میں جمع کروائی گئی رپورٹس کے معیار پر بھی سخت برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے ریمارکس دیے کہ عدالت میں ناقص اور نامناسب حالت میں رپورٹس جمع کروائی جاتی ہیں اور سوال اٹھایا کہ اگر پولیس افسران چیف جسٹس کی عدالت میں اس طرح رپورٹس پیش کرتے ہیں تو دیگر عدالتوں میں ان کا رویہ کیا ہوگا۔چیف جسٹس عالیہ نیلم نے پولیس افسران کے طرزِ عمل پر سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ افسران کو ایسا ماحول فراہم کیا جائے جہاں وہ اپنے فرائض بہتر انداز میں انجام دے سکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ عدالت کو کچھ عرصے سے پولیس کے معاملات پر نہیں پوچھا گیا، جس کے باعث صورتحال یہاں تک پہنچ گئی ہے۔ ججز کی جانب سے پولیس کی کارکردگی سے متعلق آگاہ کیا جاتا ہے اور عدالت کو معلوم ہے کہ پولیس افسران کس طرح رپورٹس جمع کرواتے ہیں۔
پولیس افسران کے خلاف کارروائی
سی سی پی او بلال صدیق کمیانہ نے عدالت کو بتایا کہ گزشتہ روز رپورٹ جمع کروانے والے پولیس افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی شروع کردی گئی ہے۔ ایس پی آپریشنز کو ناپسندیدگی کا نوٹس جاری کیا گیا، اے ایس پی سے وضاحت طلب کی گئی جبکہ متعلقہ ایس ایچ او کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا ہے۔اس پر چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ محض کارروائی کرنا مسئلے کا حل نہیں، کیونکہ پولیس افسران کے خلاف کارروائی کرکے عدالت میں آنے کا سلسلہ جاری رہتا ہے لیکن اس کے کوئی خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آتے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیوں نہ گزشتہ پانچ سال کے دوران عدالتی احکامات کی بنیاد پر پولیس افسران کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کا ریکارڈ طلب کیا جائے۔سی سی پی او بلال صدیق کمیانہ نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ پولیس عدالتی احکامات پر عملدرآمد کی پوری کوشش کرتی ہے اور آئندہ بھی اس حوالے سے بہتری لائی جائے گی۔
چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ گزشتہ روز جن پولیس افسران کے خلاف کارروائی شروع کی گئی تھی، اسے مکمل کرکے عدالت میں رپورٹ پیش کی جائے۔سی سی پی او بلال صدیق کمیانہ نے یقین دہانی کرائی کہ آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔ اس پر چیف جسٹس عالیہ نیلم نے واضح کیا کہ اگر دوبارہ اسی نوعیت کی صورتحال سامنے آئی تو عدالت پولیس کی جانب سے پیش کی جانے والی رپورٹس پر انحصار نہیں کرے گی۔