لاہور ہائیکورٹ نے عدالتی حکم امتناعی کے باوجود درخواست گزار کے خلاف مقدمہ درج کیے جانے کے معاملے پر پنجاب پولیس کی کارکردگی پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے آئی جی پنجاب عبد الکریم کو کل ذاتی حیثیت میں عدالت کے روبرو پیش ہونے کا حکم دے دیا۔
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے سابق ایس ایچ او چوہنگ کے خلاف دائر توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار میاں محمد جمیل نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالت کی جانب سے حکم امتناعی جاری ہونے کے باوجود اس کے خلاف مقدمہ درج کر دیا گیا۔سماعت کے دوران ایس پی صدر محمد عبداللہ سمیت دیگر پولیس افسران عدالت میں پیش ہوئے اور کیس سے متعلق رپورٹ عدالت میں جمع کرائی۔ تاہم چیف جسٹس عالیہ نیلم نے پولیس کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور پولیس افسران سے معاملے کی وضاحت طلب کی۔چیف جسٹس نے پولیس افسران سے کہا کہ عدالت میں پیش کی گئی رپورٹ پڑھ کر سنائی جائے۔ ایس پی صدر محمد عبداللہ نے رپورٹ پڑھنے کی متعدد مرتبہ کوشش کی، تاہم وہ اسے درست طور پر پڑھنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔رپورٹ کے غیر واضح اور مدھم فونٹ پر چیف جسٹس عالیہ نیلم نے بھی سخت ریمارکس دیے۔ انہوں نے کہا، "میں عینک کے باوجود نہیں پڑھ سکی، آپ لوگوں کی اس طرح کی مبہم اور مدھم فائلیں پڑھ پڑھ کر نظر کمزور ہوئی۔"
چیف جسٹس نے پولیس افسر سے یہ بھی استفسار کیا کہ "یہ فونٹ کس رولز کے تحت بنایا گیا ہے؟" عدالت نے ایس پی صدر محمد عبداللہ کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ اور اس میں دی گئی وضاحت پر بھی اطمینان کا اظہار نہیں کیا۔سماعت کے دوران چیف جسٹس عالیہ نیلم نے پنجاب پولیس کی مجموعی کارکردگی پر بھی سخت ناراضگی کا اظہار کیا اور ریمارکس دیے، "پورے پنجاب کا بیڑہ غرق کردیا گیا ہے۔"عدالت نے حکم امتناعی کے باوجود درخواست گزار میاں محمد جمیل کے خلاف مقدمہ درج کیے جانے کے معاملے پر متعلقہ پولیس افسران سے جواب طلب کرلیا اور کیس کے تمام متعلقہ پہلوؤں پر وضاحت پیش کرنے کی ہدایت کی۔معاملے کی سنگینی کے پیش نظر لاہور ہائیکورٹ نے آئی جی پنجاب عبد الکریم کو کل ذاتی حیثیت میں عدالت کے روبرو پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔عدالت نے آئی جی پنجاب کی طلبی کے بعد کیس کی مزید سماعت 24 ستمبر تک ملتوی کردی۔