وزیراعظم کا حافظ نعیم الرحمان سے رابطہ، احتجاجی مارچ چند روز مؤخر کرنے کی درخواست

وزیراعظم کا حافظ نعیم الرحمان سے رابطہ، احتجاجی مارچ چند روز مؤخر کرنے کی درخواست

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان سے ٹیلیفون پر رابطہ کرکے پٹرولیم لیوی کے خلاف جاری احتجاجی مارچ کو چند روز کے لیے مؤخر کرنے کی درخواست کی ہے۔

یہ رابطہ حافظ نعیم الرحمان کے ملتان پہنچنے کے بعد ہوا۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے گفتگو کے دوران کہا کہ حکومت نے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے خصوصی پیکیج کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعظم نے پیشکش کی کہ وطن واپسی پر وہ حافظ نعیم الرحمان سے ملاقات کریں گے اور عوام کے لیے مزید بہتر ریلیف پیکیج کے حوالے سے اقدامات پر بات چیت کی جائے گی۔دوسری جانب حافظ نعیم الرحمان نے وزیراعظم کو بتایا کہ حکومت کی جانب سے اعلان کردہ ریلیف پیکیج جماعت اسلامی کے مطالبات کے مطابق قابل قبول نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی پٹرولیم لیوی کے خاتمے تک اپنی احتجاجی جدوجہد جاری رکھے گی۔حافظ نعیم الرحمان کے مطابق جماعت اسلامی گزشتہ کئی ہفتوں سے پٹرولیم لیوی کے خلاف احتجاج کر رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ احتجاج کا بنیادی مطالبہ لیوی کا خاتمہ ہے اور صرف ریلیف پیکیج کے اعلان سے جماعت کے مؤقف میں تبدیلی نہیں آئے گی۔

وزیراعظم کی جانب سے مارچ میں چند روز کا وقفہ دینے کی درخواست پر حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ وہ اس معاملے پر جماعت اسلامی کی قیادت اور شوریٰ سے مشاورت کریں گے، جس کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ جماعت اسلامی کے ترجمان کے مطابق مارچ مؤخر ہونے کی صورت میں بھی احتجاج کے حق سے دستبردار نہیں ہوا جائے گا۔واضح رہے کہ جماعت اسلامی نے 20 ستمبر سے پٹرولیم لیوی کے خلاف کراچی سے اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچ شروع کیا ہے۔ قافلہ ٹرین کے ذریعے مختلف شہروں سے ہوتا ہوا ملتان پہنچا، جہاں سے مارچ کے اگلے مرحلے کا آغاز کیا گیا۔حکومت اس سے قبل بھی جماعت اسلامی سے مذاکرات کرچکی ہے، جبکہ پٹرولیم لیوی کے معاملے پر فریقین کے درمیان متعدد مذاکراتی ادوار ہو چکے ہیں۔ جماعت اسلامی کا مؤقف ہے کہ لیوی کے خاتمے تک احتجاجی تحریک جاری رہے گی۔