وزیراعظم اگر رابطہ نہیں کرتے تو لانگ مارچ شروع کریں گے، ریلیف دینا ہوگا، حافظ نعیم

وزیراعظم اگر رابطہ نہیں کرتے تو لانگ مارچ شروع کریں گے، ریلیف دینا ہوگا، حافظ نعیم

لاہور: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف وطن واپس آچکے ہیں، اگر حکومت نے رابطہ کرکے عوام کو ریلیف دینے کے لیے اقدامات نہ کیے تو جماعت اسلامی اپنا لانگ مارچ شروع کرے گی۔

 انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کے مطالبے سے دستبردار نہیں ہوں گے۔منصورہ لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ مہنگائی، پیٹرول، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے نے عوام کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے، جبکہ پیٹرولیم لیوی عوام پر اضافی بوجھ ہے، حکومت کو اب ریلیف دینا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی کے خلاف ملک گیر دستخطی مہم شروع کردی ہے۔ دو کروڑ سے زائد افراد سے دستخط لینے کے بعد اسلام آباد کا رخ کیا جائے گا۔ ان کے مطابق لانگ مارچ ملتان سے شروع ہوگا، جس میں جنوبی پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخوا سے بھی قافلے شامل ہوں گے۔حافظ نعیم الرحمٰن کا کہنا تھا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کے کئی ادوار ہوچکے ہیں، تاہم کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ اب وزیراعظم کو خود مداخلت کرکے معاملہ حل کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی پرامن احتجاج پر یقین رکھتی ہے۔امیر جماعت اسلامی نے آئی پی پیز کو کپیسٹی پیمنٹس، حکومتی اخراجات اور پالیسی ریٹ پر بھی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھانے کے بجائے حکومتی اخراجات کم کیے جائیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے آئی ایم ایف کی جانب سے اخراجات کم کرنے کی ہدایات پر بھی عمل نہیں کیا۔

حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ اگر آئی ایم ایف بڑے جاگیرداروں پر ٹیکس عائد کرنے کی بات کرتا ہے تو اس پر عمل کیوں نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے حکومتی اخراجات سے متعلق مختلف سوالات بھی اٹھائے۔خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کی افواہوں سے متعلق حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ جماعت اسلامی ایسے کسی اقدام کی مذمت کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کا پرامن احتجاج آئینی حق ہے اور حکومت کو پی ٹی آئی کے ساتھ بامعنی مذاکرات کرنے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے بعض مطالبات ایسے نہیں جنہیں پورا نہ کیا جاسکے۔ بانی پی ٹی آئی کی صحت، اسپتال منتقلی اور ملاقاتوں سے متعلق معاملات پر حکومت کو مذاکرات کے ذریعے راستہ نکالنا چاہیے۔

حافظ نعیم الرحمٰن نے صومالیہ میں پاکستانی شہریوں کی ہلاکت پر بھی افسوس کا اظہار کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ پاکستانیوں کی لاشیں وطن واپس لانے اور متاثرہ خاندانوں کی مدد کے لیے اقدامات کیے جائیں۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ وزیراعظم کی واپسی کے بعد تاحال جماعت اسلامی سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق اگر حکومت نے پیٹرولیم لیوی کے خاتمے اور عوام کو ریلیف دینے کے حوالے سے پیش رفت نہ کی تو جماعت اسلامی اپنا احتجاج اور لانگ مارچ جاری رکھے گی۔