افغانستان اور بھارت کے ساتھ سرحدیں بند کر دی گئی ہیں، چین کا اعتماد کھو چکا ہے ‘ملک ایک محصور ریاست بن کر رہ گیا ہے
پیپلز پارٹی الگ ہو جائے تو یہ اقلیت کی حکومت ہوگی‘ اس صورت میں تحریک عدم اعتماد آئے تو جے یو آئی اس کا ساتھ دے گی
ہم اس حکومت کو اسٹیبلشمنٹ کی نمائندہ سمجھتے ہیں، اس لئے بات چیت ممکن نہیں، اگر نمائندہ حکومت ہو تو بات چیت ہو سکتی ہے
اسلام آباد(آن لائن)جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت عوام کی نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ کی نمائندگی کررہی ہے۔ملک بارود کے ڈھیر پر پہنچ چکا ہے جبکہ حکمرانوں کو سیر و سیاحت سے فرصت نہیں ۔ پرامن احتجاج ہر سیاسی جماعت کا حق ہے ۔سوموار کو جمعیت علمائے اسلام(ف)کی جنرل کونسل کے دو روزہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الر حمن نے کہا کہ جنرل کونسل اجلاس میں ملک اور خطے کی مجموعی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ انہوں نے کہا گزشتہ کئی سالوں سے ملٹی نیشنل کمپنیاں پاکستان چھوڑ رہی ہیں اور کوئی سرمایہ کاری کے لیے تیار نہیں۔ افغانستان اور بھارت کے ساتھ سرحدیں بند کر دی گئی ہیں، چین کا اعتماد کھو چکا ہے اور ملک ایک محصور ریاست بن کر رہ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گھر میں آگ لگی ہوئی ہے اور نئے مسائل پیدا کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ہم بارود کے ڈھیر پر بیٹھے ہوئے ہیں اور صوبوں و معدنی وسائل کے مسائل چھیڑے جا رہے ہیں۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جے یو آئی کے بغیر حکومت بنتی نہیں اور اگر بنتی ہے تو چلتی نہیں۔ ہم اس حکومت کو اسٹیبلشمنٹ کی نمائندہ سمجھتے ہیں، اس لیے بات چیت ممکن نہیں۔ اگر نمائندہ حکومت ہو تو بات چیت ہو سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر پیپلز پارٹی حکومت سے باقاعدہ الگ ہو جائے تو یہ اقلیت کی حکومت ہوگی۔ اس صورت میں تحریک عدم اعتماد آئے تو جے یو آئی اس کا ساتھ دے گی۔ تاہم ابھی اپوزیشن اس پوزیشن میں نہیں اور تاحال عدم اعتماد پر کوئی غور نہیں کیا گیا۔