اسلام آباد: حکومت نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے (SMDA) پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس 29 ستمبر کو طلب کیا جائے گا، جس کے لیے سمری وزیراعظم شہباز شریف کو بھیجی جا چکی ہے۔وزارت پارلیمانی امور کی جانب سے اجلاس بلانے کی سمری وزیراعظم کو بھیجی گئی ہے، جس میں وزیر دفاع خواجہ آصف پارلیمانی اجلاس میں پاکستان-سعودی عرب معاہدے پر پالیسی بیان دیں گے۔یہ معاہدہ 17 ستمبر 2025 کو وزیراعظم شہباز شریف کے سعودی عرب کے دورے کے دوران طے پایا تھا، جس میں سعودی ولی عہد اور وزیراعظم شہباز شریف نے دستخط کیے۔ معاہدے کے مطابق، کسی بھی ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں ممالک کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو فروغ دینا، جارحیت کے خلاف مشترکہ دفاع و تحفظ کو مضبوط بنانا اور خطے میں امن و سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔
اعلامیے کے مطابق، یہ معاہدہ موجودہ اور ممکنہ خطرات و چیلنجز کے تناظر میں دونوں ممالک کی دفاعی صلاحیتوں کی تیاری اور انضمام کو بھی بڑھائے گا۔حکام کا کہنا ہے کہ اس معاہدے سے پاکستان اور سعودی عرب کی سلامتی اور علاقائی سالمیت کو لاحق کسی بھی خطرے کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے گا۔ دونوں ممالک اس اقدام کے ذریعے مشترکہ دفاعی، اقتصادی اور علاقائی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے بھی پرعزم ہیں۔اس اجلاس کے دوران پارلیمنٹ کے اراکین کو معاہدے کی تفصیلات اور دونوں ممالک کے دفاعی اشتراک کے اہم نکات سے آگاہ کیا جائے گا تاکہ اس معاہدے پر قانونی اور سیاسی حمایت حاصل ہو سکے۔