مہنگا آٹا خرید کر سستی روٹی نہیں بیچ سکتے،قیمت میں حالیہ اضافہ واپس لیاجائے
گیس ، بجلی کی قیمتیں کم کی جائیں،گیس لوڈشیڈنگ بندکی جائے:پریس کانفرنس
اسلام آباد(خصوصی رپورٹ) نانبائی ایسوسی ایشن راولپنڈی کے صدر شفیق قریشی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آٹیکی قیمت میں ہونے والا حالیہ اضافہ واپس لیا جائے،گیس ، بجلی اور ایل پی جی کی قیمتیں کنٹرول کی جائیں، گیس کی لوڈشیڈنگ بند کی جائے، نانبائیوں کا معاشی قتل بند کیا جائے، مہنگا آٹا خرید کر سستی روٹی نہیں بیچ سکتے، 28 اکتوبر تک سبسڈائز آٹا فراہم نہ کیا گیا تو اپنے تندور بند کرنے پر مجبور ہونگے جس سے ہزاروں خاندان بیروزگار ہو جائیں گے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے نانبائی ایسوسی ایشن راولپنڈی کے جنرل سیکرٹری خورشید قریشی، تنظیم تاجران پاکستان کے صدر کاشف چودھری و دیگر کے ہمراہ روٹی کی قیمتوں کے حوالے سے این پی سی میں منعقدہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا،شفیق قریشی کا مزید کہناتھا کہ آٹے کی قیمتوں میں دوگنا اضافہ ہو چکا ہے، مگر روٹی کی قیمت میں اضافہ نہیں ہوا اور پنجاب حکومت تندور مالکان کو روٹی 14 روپے میں فروخت کرنے پر مجبور کر رہی ہے ،جبکہ آٹے کے ساتھ بجلی، گیس اور ایل پی جی کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ہو چکا ہے، تندور مالکان اگر ایک روپیہ روٹی کی قیمت بڑھا دیں تو ان پر بھاری جرمانے اور گرفتاریاں ، دکانیں سیل کر دی جاتی ہیں،اس موقع پر تنظیم تاجران پاکستان کے صدر کاشف چودھری نے کہا کہ حکمرانوں کی جانب سے روٹی کے نام پر سیاست کی جارہی ہے، اس وقت ملک میں پانچ ہزار روپے میں بکنے والی آٹے کی بوری کی قیمت 10 ہزار روپیتک پہنچ چکی ہے۔