پائیدار معاشی ترقی کیلئے آجر خواتین کو بااختیار بنانا بے حد اہم ہے، جمیل احمد

 واشنگٹن  (آئی این پی ) اسٹیٹ بینک آف  پاکستان کے گورنر جمیل احمد نے کہا ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں شمولیتی اور پائیدار معاشی ترقی کے فروغ میں آجر خواتین (ویمن انٹرپرینیورز ) کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے،خواتین کے فعال بینک اکائو نٹس کی تعداد 20 ملین سے بڑھ کر جون 2025 تک 37 ملین تک پہنچ چکی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے  ورلڈ بینک گروپ کے 2025 کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر ورلڈ بینک ہیڈکوارٹرز، واشنگٹن ڈی سی میں سرمایہ برائے توسیع: آجر خواتین روزگار کے خالق کی حیثیت سے کے عنوان سے  منعقدہ اجلاس  سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ گورنر اسٹیٹ بینک  نے پاکستان کی مستقبل بین پالیسی اصلاحات کو اجاگر کیا جن کا مقصد آجر خواتین کو بااختیار بنانا اور صنفی شمولیت پر مبنی معاشی ترقی کو فروغ دینا ہے۔انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کی نمائندہ پالیسی برابری پر بینکاری نے، جو پاکستان کے مالی شعبے میں خواتین کو مرکزی دھارے میں لانے کا اولین جامع فریم ورک ہے، مالی شمولیت میں صنفی فرق کم کرنے میں اہم  کردار ادا کیا ہے۔گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ ستمبر 2021 میں یہ پالیسی متعارف کرائے جانے کے بعد سے خواتین کے فعال بینک اکائونٹس کی تعداد 20 ملین سے بڑھ کر جون 2025 تک 37 ملین تک پہنچ چکی ہے۔ اسی طرح مالی شمولیت میں صنفی فرق بھی 39 فیصد سے گر کر 30 فیصد پر آگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ خواتین کو قرضوں کی فراہمی میں خاصا اضافہ ہو چکا ہے جبکہ مائیکروفنانس بینکوں کی خاتون قرض گیروں کی تعداد 200 فیصد بڑھی ہے۔ اس مدت میں خواتین کی چھوٹے اور درمیانے درجے کی انٹرپرائزز)(ایس ایم ای)  اور زرعی قرضوں کے پورٹ فولیوز میں بھی دگنا اضافہ ہو چکا ہے