افغانستان سے جنگ بندی خلاف ورزی نہ ہونے تک برقرار رہے گی خواجہ آصف

 دراندازی جب بھی ہوئی  جواب ضرور ملے گا، سیز فائر افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کیلئے استعمال نہ ہونے اور ٹی ٹی پی کی سرپرستی نہ کئے جانے کی  شرط پر ہوئی 
یہ جتھے کون تیار کرتے رہے ہیں کس لئے  تیار کرتے رہے ہیں، سب کو پتہ ہے، ٹی ایل پی پر پابندی لگنے جا رہی ہے یا نہیں اس پر بات نہیں کروں گا:وزیردفاع
اسلام آباد (آن لائن‘آئی این پی) وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے پاک افغان سیز فائر کے حوالے سے اہم اور دو ٹوک بیان جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے  افغانستان کی جانب سے کسی بھی قسم کی دراندازی یا کالعدم تنظیم ٹی ٹی پی کو پناہ دینے کی صورت میں پاکستان بھرپور جواب دے گا۔ جنگ بندی کا معاہدہ تب تک مؤثر ہے جب تک اس کی خلاف ورزی نہ ہو۔ اپنے ایک انٹرویو میں وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ  یہ سیز فائر کھلے الفاظ میں اس شرط پر قائم کیا گیا تھا کہ افغان سرزمین سے پاکستان میں کسی قسم کی مداخلت نہیں ہوگی، اور نہ ہی ٹی ٹی پی کو وہاں کسی قسم کی سہولت یا سرپرستی دی جائے گی۔ انہوں نے کہا یہ بہت واضح طور پر بیان کیا گیا تھا کہ کوئی دراندازی نہیں ہوگی اور ٹی ٹی پی کو ان کی سرزمین پر کوئی سہولت فراہم نہیں کی جائے گی۔ جب تک معاہدے کی خلاف ورزی نہیں ہوتی، جنگ بندی برقرار رہے گی۔ انہوں نے کہا  پاکستان کسی بھی قیمت پر اپنی سرحدوں کی حفاظت پر سمجھوتہ نہیں کرے گا، اور اگر افغان سرزمین سے دوبارہ دراندازی ہوئی تو ردعمل پہلے سے زیادہ سخت ہو گا۔انہوں نے کہا یہ جتھے کون تیار کرتے رہے ہیں کس لئے تیار کرتے رہے ہیں، سب کو پتہ ہے۔ پاکستان میں بھی اس طرح کے جتھوں کو برادشت نہیں کرنا چاہیے، بہت دیر ہو گئی ہے کئی دہائیوں سے ہم یہ جتھے تیار کرتے رہے ہیں۔ اب یہ ریاست قانون قاعدے اور آئین کے مطابق چلے گی، ٹی ایل پی پر پابندی لگنے جا رہی ہے یا نہیں اس پر بات نہیں کروں گا۔ مذہب کے نام پر اس طرح کے جتھے کسی بھی ریاست میں قابل قبول نہیں۔