دہشتگردوں کا کوئی مذہب نہیں: شازیہ مری، پراکسی وار دہائیوں سے جاری ہے، عالیہ کامران‘ 25 سال سے دہشتگردی کا شکار ہیں: شیر افضل مروت
دہشتگردوں سے مذاکرات آج دہشتگردی کی وجہ ہے: جمال رئیسانی‘دہشتگردی میں بھارت ملوث ہے:راجہ پرویز اشرف‘قومی اسمبلی میں اظہار خیال
اسلام آباد(آئی این پی )قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومتی و اپوزیشن ارکان نے خضدار حملے کی مذمت کرتے ہوئے ملک دشمن عناصرکو شکست دینے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارر نے کہا کہ قوم نے انتہائی بہادری اور دلیری کیساتھ افواج پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ بزدل دشمن نے اب ہمارے بچوں پر وار کیا ۔ خضدار میں اسکول کے بچوں کو نشانہ بنایا گیا۔انہوں نے کہا کہ یہ بزدلانہ حملہ اس لیے کیا گیا کیوں کہ بزدل دشمن روایتی جنگ لڑنے کی صلاحیت نہیں رکھتا ۔ دشمن اپنی پراکسی کے ذریعے ملک پر حملہ آور ہے ۔ دشمن کو کنونشنل وار فیئر میں برترین شکست ہوئی ہے۔عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ بچوں پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں ۔ یہ قوم متحد ہوکر دشمن کی پراکسی کو بھی شکست دے گی۔ جو لوگ اس کے پیچھے تھے، انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ ہمارا عزم و ہمت اور جذبہ قائم ہے۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ ایک ایک دہشتگرد کو ٹھکانے لگائیں گے،بھارت کو ہر میدان میں شکست دیں گے،۔شازیہ مری نے کہا کہ ثابت ہوچکا کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی کے سارے تانے بانے بھارت سے ملتے ہیں۔جے یو آئی کی رکن اسمبلی عالیہ کامران نے کہا کہ بلوچستان میں پراکسی وار کئی دہائیوں سے ہو رہی ہے۔ خضدار واقعہ افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔ پاکستان دنیا کو اس پراکسی سے آگاہ کرے۔شیر افضل مروت نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ خضدار واقعہ افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔ تاریخ لکھی جائے گی کہ ہم نے بطور پارلیمنٹرین کیا کردار ادا کیا ۔ دہشت گردی سے چھٹکارا دلانا افواج پاکستان کا کام ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم 25سال سے دہشت گردی کا شکار ہے ۔۔پیپلز پارٹی کے جمال رئیسانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں جاری دہشتگردی صرف فوج کا مسئلہ نہیں ہے۔ 2018 میں ایک وزیر اعظم بنایا گیا ۔ اس وزیر اعظم اور اس کی پارٹی نے ان دہشتگردوں سے مذاکرات کی بات کی ۔ آج کی دہشتگردی کی لہر کی وجہ وہی مذاکرات پالیسی بنی ۔پیپلز پارٹی کے راجا پرویز اشرف نے کہا کہ جنگ کے بھی اصول ہوتے ہیں ۔ دہشت گردی کے واقعات میں بھارت ملوث ہے۔دہشت گردی کسی بھی علاقے میں ہو وہ قابل مذمت ہے‘۔وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ آج بھی بزدل دشمن نے معصوم بچوں پر وار کیا ۔ انتہائی افسوس ناک واقعہ ہے ۔ دہشت گردوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ 90 ہزار جانوں کا نقصان ہوا۔ پاکستان سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑا ہے اور مقابلہ کررہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہمارے سکیورٹی ادارے اور افواج دہشت گردی کے خلاف لڑنے کے لیے پرعزم ہیں۔