صدر ٹرمپ نے کملا ہیرس اور ہیلری کلنٹن کی سیکورٹی کلیئرنس منسوخ کر دی

صدر ٹرمپ نے کملا ہیرس اور ہیلری کلنٹن کی سیکورٹی کلیئرنس منسوخ کر دی

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف ایک بڑا اقدام اٹھاتے ہوئے سابق نائب صدر کملا ہیرس، سابق وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن، اور دیگر اہم شخصیات کی سیکورٹی کلیئرنس منسوخ کر دی ہے۔

 یہ اقدام صدر ٹرمپ کی جانب سے ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والی شخصیات کے خلاف اٹھایا گیا ہے، جنہیں اب خفیہ معلومات تک رسائی حاصل نہیں ہو سکے گی۔صدر ٹرمپ نے کملا ہیرس کو 2024 کے صدارتی انتخابات میں اپنے اہم حریف کے طور پر نشانہ بنایا، جبکہ ہیلری کلنٹن کو 2016 کے صدارتی انتخابات میں شکست دینے کے بعد اس اقدام کا حصہ بنایا۔ ٹرمپ نے کہا کہ یہ شخصیات اب ملک کے مفاد میں نہیں ہیں اور ان کی سیکورٹی کلیئرنس منسوخ کرنے کا فیصلہ ملکی سلامتی کے لیے ضروری ہے۔اس اقدام میں صرف کملا ہیرس اور ہیلری کلنٹن ہی نہیں بلکہ دیگر شخصیات بھی شامل ہیں جن میں سابق وزیر خارجہ انٹونی بلنکن، سابق رکن کانگریس لز چینی، اور وائٹ ہاؤس کے سابق قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان شامل ہیں۔ ان افراد کو اب خفیہ امریکی معلومات تک رسائی حاصل نہیں ہوگی۔ٹرمپ کے اس فیصلے میں خاص طور پر جو بائیڈن کی حکومت کے بعض اہم مشیروں کا بھی ذکر ہے۔

 بائیڈن کی حکومت میں روسی امور کی ماہر فیونا ہل اور جیک سلیوان جیسے افراد کو بھی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے، جو بائیڈن نے ڈونلڈ ٹرمپ کی بطور سابق صدر سکیورٹی کلیئرنس منسوخ کر دی تھی، جس کے بعد ٹرمپ نے جواباً ان مخالفین کی سیکورٹی کلیئرنس منسوخ کی ہے۔اس فیصلے کے بعد، یہ بھی واضح ہوا کہ ٹرمپ نے ریپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے سابق رکن کانگریس ایڈم کنزنگر اور دیگر اہم شخصیات کی سکیورٹی کلیئرنس بھی منسوخ کر دی ہے۔ یہ ایک سیاسی حکمت عملی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس کا مقصد اپنے حریفوں کو کمزور کرنا اور امریکی عوام میں اپنے اثر و رسوخ کو مزید بڑھانا ہے۔