سابق امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے افغانستان میں طالبان حکومت پر سخت تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ موجودہ نظام میں خواتین کا مستقبل تاریک ہوتا جا رہا ہے۔
انہوں نے اپنے ایک مضمون میں لکھا کہ طالبان نے افغان خواتین کو سیاسی، سماجی اور معاشی زندگی سے تقریباً مکمل طور پر باہر کر دیا ہے۔ہیلری کلنٹن کا کہنا ہے کہ خواتین کی ثانوی تعلیم، یونیورسٹیوں میں داخلہ اور پیشہ ورانہ سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں، جو دراصل طالبان کے اقتدار کو طول دینے کے لیے حکمت عملی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ طالبان مذہب کی آڑ میں نصف آبادی کو خاموش کر کے اپنی طاقت مضبوط کر رہے ہیں۔دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت عوامی فلاح کے بجائے کنٹرول اور نظریاتی غلبہ کو ترجیح دے رہی ہے، جس کا براہ راست اثر عام افغان شہریوں، خصوصاً خواتین، پر پڑ رہا ہے۔ماہرین کے مطابق، معلومات، تعلیم اور روزگار سے محروم کرنا ایک ایسی حکمت عملی ہے جس سے طالبان اپنی حکومت کو مستحکم کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔