وفاقی وزیر منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی خطے کے امن اور پاکستان کے آبی حقوق کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔
احسن اقبال کی زیر صدارت ٹاسک فورس برائے نیشنل واٹر سکیورٹی کا پہلا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وفاقی وزیر آبی وسائل میاں محمد معین وٹو بھی موجود تھے۔ اجلاس میں وزیر منصوبہ بندی نے وزارت آبی وسائل کے تحت ایک خصوصی ورکنگ گروپ قائم کرنے اور 15 دن کے اندر قابلِ عمل سفارشات پلاننگ کمیشن کو پیش کرنے کی ہدایت جاری کی۔اجلاس میں بریفنگ دی گئی کہ ہمالیہ ریجن میں 2011 سے 2020 کے دوران برف پگھلنے کی شرح میں 65 فیصد اضافہ ہوا ہے، سیاچن گلیشیئر سالانہ 50 سے 60 میٹر کی رفتار سے پگھل رہا ہے، جبکہ ہمالیہ کے دیگر پہاڑوں میں یہ شرح 30 میٹر سالانہ تک پہنچ چکی ہے۔وفاقی وزیر نے پانی سے متعلق پالیسیوں کو عملی منصوبوں میں ڈھالنے کے لیے فوری ٹیکنیکل ورکشاپ بلانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی کے باعث پاکستان کو شدید اور طویل المدتی آبی بحران کا سامنا ہو سکتا ہے، اور پانی کا تحفظ فوڈ سکیورٹی اور معاشی استحکام کی ضمانت ہے۔
احسن اقبال نے مزید کہا کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان نیشنل واٹر پالیسی پر مکمل ہم آہنگی ناگزیر ہے، اور نئے ڈیمز جیسے دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم پانی کے ذخائر میں اضافے کے لیے سنگِ میل ثابت ہوں گے۔ انہوں نے چیئرمین واپڈا، ارسا، نیشنل فلڈ کمیشن اور صوبوں کو ہدایت کی کہ ورکنگ گروپ کو اپنی ماہرانہ تجاویز فراہم کریں اور پانی کے بحران سے نمٹنے کے لیے واضح ٹائم ٹیبل مقرر کریں۔