اراضی کے وہ تنازعات جو ایک بار حتمی ہو چکے ہوں انہیں دوبارہ نہیں سنا جا سکتا:آئینی عدالت

عدالت نے ہائیکورٹ کے 2008 میں دیئے گئے فیصلوں اور فیڈرل لینڈ کمیشن کے 1996 کے احکامات کو کالعدم قرار دے دیا
اسلام آباد(آن لائن)وفاقی آئینی عدالت نے پچاس سال سے چلے آنے والے اراضی تنازعہ کا حتمی فیصلہ سنا کر معاملہ ہمیشہ کے لیے نمٹا دیا ہے۔ ستائیسویں آئینی ترمیم کے بعد یہ مقدمہ آئینی عدالت کو منتقل کیا گیا تھا۔چیف جسٹس امین الدین خان نے 25 صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا۔ عدالت نے ہائیکورٹ کے 2008 میں دیے گئے فیصلوں اور فیڈرل لینڈ کمیشن کے 1996 کے احکامات کو کالعدم قرار دے دیا۔فیصلے میں عدالت نے حکم دیا کہ اراضی کی پوزیشن 1996 سے قبل والی حالت میں بحال کی جائے۔ آئینی عدالت نے واضح کیا کہ 1972 کی لینڈ ریگولیشنز کے تحت مزارعین کے حقوق قانون کے مطابق محفوظ رہیں گے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اراضی کے وہ تنازعات جو ایک بار حتمی ہو چکے ہوں انہیں دوبارہ نہیں سنا جا سکتا۔