وفاقی محتسب کو پیچیدہ جائیداد تنازعات کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں سپریم کورٹ

 خواتین کی جائیداد سے متعلق سول درخواستیں اپیلوں میں تبدیل کر کے منظور ، حقوق سے متعلق محتسب اور پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کالعدم قرار
جائیداد ملکیت اور وراثت کے معاملات سول عدالتوں میں مناسب مدت میں طے کئے جائیں: جسٹس عائشہ ملک  کے ریمارکس
اسلام آباد(آئی این پی‘آن لائن ) سپریم کورٹ آف پاکستان  نے قرار دیا ہے  وفاقی محتسب کو پیچیدہ جائیداد تنازعات کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں، ملکیت اور وراثت سے متعلق متنازعہ معاملات سول عدالتوں میں طے ہوں گے۔سپریم کورٹ نے خواتین کے جائیداد حقوق سے متعلق وفاقی محتسب اور پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے متنازعہ جائیداد کا معاملہ مجاز سول عدالت کو بھجوانے کا حکم دے دیا۔عدالت عظمی کا 8 صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس عائشہ ملک نے تحریر کیا۔فیصلے میں قرار دیا گیا ہے کہ وفاقی محتسب کے اختیارات واضح ملکیتی حقوق اور قبضے کی بحالی تک محدود ہیں، جبکہ پیچیدہ قانونی اور حقائق پر مبنی تنازعات کا فیصلہ شہادتیں ریکارڈ کرنے کے بعد ہی ممکن ہے۔سپریم کورٹ نے خواتین کی جائیداد سے متعلق سول درخواستوں کو اپیلوں میں تبدیل کرکے منظور کرلیا اور ہدایت کی کہ محتسب شکایت سمیت تمام متعلقہ ریکارڈ سول جج باڑہ کی عدالت میں جمع کرایا جائے۔عدالت نے سول عدالت کو فریقین کو 15 روز کے اندر پیش ہونے کے نوٹس جاری کرنے اور مقدمہ مناسب مدت میں نمٹانے کی ہدایت بھی کی ہے۔ سپریم کورٹ نے خواتین کی جائیداد سے متعلق سول درخواستوں کو اپیلوں میں تبدیل کر کے منظور کر لیا اور خواتین کے جائیداد حقوق سے متعلق محتسب اور پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کالعدم قرار دے دیے۔