ویب ڈیسک: بھارت کی جانب سے 4 لاکھ کیوسک پانی چھوڑنے کی ممکنہ دھمکی کے بعد منگلا ڈیم اور گردونواح میں ہنگامی صورتحال نافذ کر دی گئی ہے۔
ڈیم انتظامیہ اور ضلعی حکام نے ایمرجنسی اقدامات مکمل کر لیے ہیں، جبکہ عوام کو مساجد کے ذریعے ممکنہ خطرے سے خبردار کیا جا رہا ہے۔ڈپٹی کمشنر کے مطابق اگر بھارت نے پانی چھوڑا تو منگلا کے اطراف کے علاقے شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔ متاثرہ نشیبی علاقوں میں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں، اور عوام سے کہا گیا ہے کہ افواہوں پر کان نہ دھریں، صرف سرکاری ہدایات پر عمل کریں۔ریسکیو ادارے، واپڈا اور مقامی انتظامیہ مسلسل صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ دوسری جانب حالیہ بارشوں اور گلیشیئرز کے پگھلنے کے سبب دریاؤں میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق دریائے سندھ کے تربیلا، کالا باغ، چشمہ اور تونسہ کے مقامات پر نچلے درجے کا سیلاب موجود ہے۔ دریائے چناب میں خانکی کے مقام پر پانی کی آمد 3 لاکھ 40 ہزار اور اخراج 3 لاکھ 20 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ دیگر مقامات پر بھی پانی کا بہاؤ بلند سطح پر ہے۔پی ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ 22 سے 24 جولائی کے دوران دریاؤں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔ ڈائریکٹر جنرل نے تمام متعلقہ ضلعی انتظامیہ کو الرٹ رہنے اور پیشگی حفاظتی انتظامات مکمل رکھنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔