بھارتی ریاست کرناٹک کے علاقے "دھرم استھل" میں واقع ایک معروف مذہبی ادارے کے سابق ملازم نے چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں جنہوں نے ملک میں تہلکہ مچا دیا ہے۔
اس شخص نے مجسٹریٹ کے سامنے بیان دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے کئی برسوں میں تقریباً 100 لاشیں دفنائیں، جن میں بعض جنسی زیادتی کا شکار خواتین اور کم عمر لڑکیاں بھی شامل تھیں۔
مجسٹریٹ کے سامنے سنسنی خیز بیان
برطانوی میڈیا کے مطابق سابق ملازم نے بھارتی قانون "بی این ایس ایس" کی دفعہ 183 کے تحت اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔ اس نے بتایا کہ، کئی خواتین کی برہنہ لاشیں دفنائیں جن پر جنسی تشدد اور حملوں کے واضح نشانات تھے۔بعض اوقات لاشوں پر ڈیزل چھڑک کر انہیں جلانے کا حکم دیا جاتا تاکہ ثبوت مٹائے جا سکیں۔ایک واقعے میں 12 سے 15 سالہ بچی کی مسخ شدہ لاش دفنائی گئی، جس پر جنسی زیادتی اور گلا گھونٹنے کے نشانات تھے۔
خاموشی کی وجوہات اور دھمکیاں
شکایت کنندہ نے کہا کہ وہ کئی برس خاموش رہا کیونکہ، "مجھے قتل کی دھمکیاں دی گئیں۔ کہا گیا کہ تمہیں بھی دفن کر دیا جائے گا، جیسے باقیوں کو دفنایا گیا۔"اب، اس کا کہنا ہے کہ وہ مزید ذہنی دباؤ برداشت نہیں کر سکتا اور ریاست چھوڑ چکا ہے۔
لاشیں دفنانے کے ثبوت
بیان دینے والے ملازم نے ایک قبر کی نشاندہی خود کی اور تصاویر و دیگر شواہد مجسٹریٹ کو پیش کیے۔ اس کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی اور بیان کے وقت اسے کالے کپڑے میں مکمل طور پر ڈھانپ دیا گیا تھا۔
اجتماعی قبریں؟ ایک اور ماں سامنے آگئی
اس معاملے کے بعد ایک ایسی خاتون بھی سامنے آئیں جن کی بیٹی دو دہائی قبل لاپتہ ہو گئی تھی۔ انہوں نے پولیس سے اپیل کی ہے کہ اگر لاشوں کی شناخت ممکن ہو تو وہ ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے تیار ہیں۔
حکومتی مؤقف
کرناٹک کے وزیراعلیٰ سدھارمیا نے کہا ہے:
"ہم کسی دباؤ میں نہیں آئیں گے، قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔"
الزامات کس پر؟
ایف آئی آر کے مطابق مندر انتظامیہ اور دیگر عملے پر شبہ ظاہر کیا گیا ہے، لیکن شکایت کنندہ نے ان کے نام اس وقت ظاہر کرنے سے انکار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ، "یہ افراد بہت بااثر ہیں، جب مجھے اور میرے خاندان کو قانونی تحفظ ملے گا، تب ان کے نام بتاؤں گا۔"