بھارت کی ریاست بہار کے ضلع بیگو سرائے میں ایک مبینہ جنسی زیادتی کے واقعے کے بعد پنچایت کی جانب سے متاثرہ خاتون کو ہی قصوروار قرار دے کر سرِعام تذلیل کا نشانہ بنانے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق 30 سالہ خاتون، جو تین بچوں کی ماں ہے، نے الزام عائد کیا ہے کہ 2 اور 4 جون کے درمیان اس کے پڑوسی نے دو مرتبہ اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی۔رپورٹس کے مطابق جب معاملہ پنچایت کے سامنے پیش کیا گیا تو متاثرہ خاتون کو انصاف فراہم کرنے کے بجائے مبینہ طور پر اسے ہی قصوروار ٹھہرایا گیا اور سرِعام تھوک چاٹنے پر مجبور کیا گیا۔واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔خاتون نے مقدمے میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ مبینہ جنسی زیادتی اور بعد ازاں پنچایت میں اس کی تذلیل اس وقت کی گئی جب اس کا شوہر روزگار کے سلسلے میں گاؤں سے باہر موجود تھا۔رپورٹس کے مطابق واقعے کی سنگینی کے پیشِ نظر ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سبودھ کمار اور متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او نے جائے وقوع کا دورہ کیا، جبکہ مرکزی ملزم کی تلاش جاری ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔