برازیل کے شمال مشرقی شہر باکابال میں ایک ہولناک اور چونکا دینے والا واقعہ پیش آیا، جہاں ایک ٹی وی رپورٹر مبینہ طور پر گمشدہ 13 سالہ لڑکی کی لاش پر رپورٹنگ کے دوران نادانستہ طور پر کھڑا ہو گیا۔
واقعہ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہے، جس نے عوام کو افسردہ اور حیران کر دیا ہے۔یہ دل دہلا دینے والا واقعہ میارِم دریا کے کنارے پیش آیا، جو وہی مقام تھا جہاں رائسا نامی طالبہ کو آخری بار زندہ دیکھا گیا تھا۔ برطانوی اخبار دی سن کے مطابق، رپورٹر لینیلڈو فرازاؤ دریا میں داخل ہوئے تاکہ واقعہ کی جگہ کی گہرائی اور حالات کا جائزہ لے سکیں۔ جیسے ہی وہ پانی میں سینے تک پہنچے، وہ اچانک رک گئے اور گھبراہٹ میں واپس مڑ آئے۔وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ رپورٹر اپنی ٹیم کو بتاتے ہیں:"مجھے پانی کے نیچے کچھ محسوس ہوا، میں ڈر گیا ہوں، وہ شاید بازو جیسی چیز تھی، کیا یہ وہی بچی ہو سکتی ہے؟ یا شاید مچھلی ہو؟"رپورٹر کی تشویش کے بعد 30 جون کو ریسکیو ٹیم نے دریا میں دوبارہ تلاش کا عمل شروع کیا۔ حیران کن طور پر وہ اسی مقام پر پہنچے جہاں سے فرازاؤ نے عجیب حرکت محسوس کی تھی—اور وہیں سے رائسا کی لاش برآمد ہوئی۔
تاہم اب تک یہ تصدیق نہیں ہو سکی کہ آیا رپورٹر نے واقعی لاش کو چھوا تھا یا نہیں۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق رائسا کی موت حادثاتی طور پر ڈوبنے سے ہوئی اور جسم پر کسی بھی قسم کے تشدد یا زخم کے نشانات نہیں پائے گئے۔رائسا ایک اسکول کی طالبہ تھی، اور اس کے انتقال کے بعد اسکول انتظامیہ نے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا۔ سوشل میڈیا صارفین اور مقامی افراد نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بچی کے خاندان سے گہرے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔