ویب ڈیسک: بنگلا دیش کے دارالحکومت ڈھاکا میں فضائیہ کے تربیتی طیارے کے ایک ہائی اسکول پر گرنے کے افسوسناک واقعے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 27 ہو گئی ہے، جن میں 25 کم عمر طلبہ اور طیارے کا پائلٹ بھی شامل ہیں، جب کہ 170 کے قریب افراد زخمی ہوئے ہیں۔
حکام کے مطابق حادثہ گزشتہ روز اس وقت پیش آیا جب بنگلا دیش ایئر فورس کا ایف-7 ماڈل تربیتی طیارہ ٹیک آف کے فوراً بعد تکنیکی خرابی کا شکار ہو گیا۔ پائلٹ نے طیارے کو آبادی سے دور لے جانے کی کوشش کی، مگر طیارہ توازن کھو بیٹھا اور براہِ راست شہر کے ایک مصروف ہائی اسکول کی عمارت سے جا ٹکرایا۔حادثے کے وقت اسکول میں سیکڑوں بچے موجود تھے، اور ابتدائی اطلاعات کے مطابق جاں بحق طلبہ کی عمریں 12 سے 16 سال کے درمیان ہیں۔ واقعے میں زخمی ہونے والے متعدد افراد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، جنہیں مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔فوجی ترجمان نے بیان میں کہا کہ پائلٹ نے آخری لمحے تک نقصان کم سے کم رکھنے کی کوشش کی، لیکن طیارے کا مکمل کنٹرول ممکن نہ رہا۔ واقعے کے بعد علاقے میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی اور ریسکیو ٹیموں نے فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔
بنایا گیا اسپیشل میڈیکل یونٹ موقع پر تعینات ہے، جب کہ فائر بریگیڈ اور فوج کے اہلکار متاثرہ عمارت کے ملبے سے مزید زخمیوں کی تلاش میں مصروف ہیں۔وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ حکومت نے حادثے کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جو طیارے کی فنی خرابی اور دیگر پہلوؤں کا جائزہ لے گی۔