میرے حلقے سے لوگ لاپتہ ہورہے ہیں(شاندانہ گلزار)ہمارے سامنے تو کوئی کیس نہیں آیا پشاور ہائیکورٹ

 آپ کے حلقے میں کیا یہ ایک ایشو رہ گیا ہے؟آپ کے حلقے میں شاید پاکستان میں سب سے زیادہ دہشتگردی ہے،2013سے آپ کی حکومت ہے
 کیا آج تک کوئی بڑا پروجیکٹ کیا؟وہاں دشمنیاں ہیں لوگ قتل ہوئے، کیا سیاسی لوگوں نے آج تک اس کے حل کیلئے کوئی جرگہ کیا؟جسٹس اعجاز انور 
پشاور(آئی این پی )پشاورہائیکورٹ میں پی ٹی آئی کی رکن قومی اسمبلی شاندانہ گلزار کی ایس ایچ او بڈھ بیر کے خلاف درخواست پر سماعت کے دوران جسٹس اعجاز انور نے کہاکہ ہمارے سامنے تو گمشدگی کا ابھی تک کوئی کیس نہیں آیا، آپ کے حلقے میں کیا یہ ایک ایشو رہ گیا ہے؟آپ کے حلقے میں شاید پاکستان میں سب سے زیادہ دہشتگردی ہے،2013سے آپ کی حکومت ہے، کیا آج تک کوئی بڑا پروجیکٹ کیا؟ ۔پشاور ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی کی رکن قومی اسمبلی شاندانہ گلزار کی ایس ایچ او بڈھ بیر کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی،درخواست پر سماعت جسٹس اعجاز انور اور جسٹس فہیم ولی نے سماعت کی، وکیل درخواستگزار نے کہاکہ درخواست گزار عوامی نمائندہ ہیں ، عدالت سے کچھ عرض کرنا چاہتی ہیں،شاندانہ گلزار نے کہاکہ میرے حلقے میں لوگ لاپتہ ہو رہے ہیں، 3ماہ سے ان کا کچھ پتہ نہیں چلا، جسٹس اعجاز انور نے کہاکہ ہمارے سامنے تو گمشدگی کا ابھی تک کوئی کیس نہیں آیا، آپ کے حلقے میں کیا یہ ایک ایشو رہ گیا ہے؟آپ کے حلقے میں شاید پاکستان میں سب سے زیادہ دہشتگردی ہے،2013سے آپ کی حکومت ہے، کیا آج تک کوئی بڑا پروجیکٹ کیا؟وہاں دشمنیاں ہیں لوگ قتل ہوئے، کیا سیاسی لوگوں نے آج تک اس کے حل کیلئے کوئی جرگہ کیا؟ہمارے پاس جو رپورٹس ہیں ان کے مطابق آفس، اسلحہ اور ہوائی فائرنگ پر پابندی ہے،میں بھی اس حلقے سے ہوں، کیا وہاں پر کوئی یونیورسٹی، کالجز، گرلز کالج یا پلے گراونڈ بنایا؟آپ صرف اس طرح کے ایس ایچ او کا تبادلہ کروانے کے علاوہ کچھ نہیں کررہے، شاندانہ گلزار نے کہاکہ بڈھ بیر گرلز کالج اور زچہ و بچہ ہسپتال وہاں پر منظور کروایا ہے۔جسٹس اعجاز انور نے کہاکہ اگر اس حوالے سے کوئی ایف آئی آر  آئے تو ہم اس کو سن لیں گے،صرف الزامات پر ہم کس کے خلاف کارروائی کا حکم نہیں دے سکتے،50سال سے اس علاقہ میں رہتا ہوں، مجھے وہاں کے حقائق معلوم ہیں،یہ بی بی شاید اس علاقہ میں رہتی بھی نا ہوں،درخواست گزار شاندانہ گلزار نے کہاکہ میں وہاں رہتی ہوں، وہاں پر میرا گھر ہے،جسٹس اعجاز انور نے کہاکہ آپ کو کوئی لیگل بات کرنی ہیں تو کریں، دیگر لوگ بیٹھے ہیں، ہم نے ان کو بھی سننا ہے،وکیل درخواستگزار نے کہاکہ وہاں پر ایس ایچ او کے خلاف لوگوں نے احتجاج کیا، جسٹس اعجاز انور نے کہاکہ اس پر تو حکومت نے انکوائری کاکہا ہے، ان کی رپورٹ آ جائیگی، سی سی پی او کو آئندہ سماعت پر طلب کرتے ہیں،عدالت نے سی سی پی کو 23جولائی کو طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔