پاکستان کی قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران سامنے آیا، جہاں جمعیت علمائے اسلام ف (جے یو آئی ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اپنی نشست سے اظہار خیال کیا۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وہ جس علاقے میں رہتے ہیں وہاں طالبان کا قبضہ ہے، اور وہاں زندہ رہنے کے لیے مقامی لوگوں کو طالبان کو بھتہ دینا پڑتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ علاقے کے تمام سرکاری افسران بھی انہیں بھتہ دیتے ہیں اور کہاکہ بجٹ منظور کرنے کے وقت وہ اس بات کو مدنظر رکھتے ہیں کہ تقریباً 10 فیصد حصہ طالبان کو دیا جاتا ہے تاکہ علاقے میں امن قائم رہے۔انہوں نے اس موقع پر پاکستان کے اندر سیاسی اور معاشرتی حالات پر بھی تنقید کی اور کہا کہ اپنے ملک میں یہ صورتحال ہے جبکہ بعض لوگ غزہ میں امن قائم کرنے کی بات کرتے ہیں۔اس بیان کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔