اب فیصلے ایوان نہیں میدان میں ہوں گے، مولانا فضل الرحمان کا ملک گیر احتجاج کا اعلان

اب فیصلے ایوان نہیں میدان میں ہوں گے، مولانا فضل الرحمان کا ملک گیر احتجاج کا اعلان

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے مہنگائی، حکومتی پالیسیوں اور خطے کی صورتحال پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے 22 مئی کو ملک گیر احتجاجی مظاہروں کا اعلان کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ اب فیصلے ایوانوں کے بجائے میدان میں ہوں گے اور ملک بھر کے ضلعی ہیڈکوارٹرز میں احتجاج کیا جائے گا۔کراچی میں وحدتِ امت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ امتِ مسلمہ کئی دہائیوں سے عالمی ظلم و بربریت کا شکار ہے۔ ان کے مطابق امریکا اور مغربی طاقتوں نے افغانستان، عراق اور لیبیا پر جنگیں مسلط کیں جبکہ فلسطین اور غزہ میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پر دنیا خاموش تماشائی بنی رہی۔انہوں نے کہا کہ اب صورتحال ایران تک پہنچ چکی ہے اور اگر ایران کمزور ہوا تو اسرائیل پاکستان کے دروازے تک پہنچ جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم ممالک کو متحد ہو کر مشترکہ دفاعی قوت بننا ہوگا کیونکہ دشمن کی نظریں حرمین الشریفین پر ہیں۔مولانا فضل الرحمان نے داخلی سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس وقت قومی یکجہتی سے محروم ہے جبکہ جے یو آئی اتحاد، برداشت اور محبت کی سیاست پر یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اختلاف رائے جمہوری حق ہے مگر اسے شائستگی کے دائرے میں رہ کر ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت آئین کی وفادار ہے اور آئین شکنی ملک کی تباہی کا سبب بنتی ہے۔ دفاعی اداروں کے احترام کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جے یو آئی کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔جے یو آئی سربراہ نے الزام عائد کیا کہ ان کی جماعت کو ماضی میں دھاندلی کے ذریعے پارلیمنٹ سے باہر رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے علما، کارکنان اور رہنما مسلسل دہشت گردی کا نشانہ بنتے رہے ہیں، خاص طور پر باجوڑ، کرم، وزیرستان اور مہمند میں علما کو ٹارگٹ کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ اگر انہیں قتل کیا گیا تو اس کا ذمہ دار ریاست کو قرار دیں گے۔ مولانا فضل الرحمان کے مطابق انہیں بعض مقامات پر جانے سے روکنے کے لیے فون کالز بھی موصول ہوتی رہیں، تاہم وہ دباؤ قبول نہیں کرتے۔

معاشی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش میں پیٹرول کی قیمت میں 16 فیصد جبکہ پاکستان میں 61 فیصد اضافہ ہوا۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ ایران سے تیل درآمد کرنے کے معاہدے کیے جائیں تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں اداروں کی نجکاری کی جا رہی ہے، مدارس پر قدغنیں لگائی جا رہی ہیں اور مدارس سے متعلق قانون سازی پر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔ ان کے مطابق عوام کو امن، روزگار، تعلیم اور مہنگائی سے نجات چاہیے۔آخر میں مولانا فضل الرحمان نے اعلان کیا کہ جے یو آئی نے پہلے امریکا اور ایران مذاکرات کے باعث احتجاج مؤخر کیا تھا، تاہم اب 22 مئی کو ملک بھر میں مہنگائی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے جبکہ 4 جون کو پشین میں بڑا جلسہ منعقد کیا جائے گا۔