ایران میں حالیہ احتجاجی مظاہروں کے دوران ہلاکتوں اور تباہی کے منظرنامے کی تفصیل کچھ یوں ہے:
کل ہلاکتیں: ایران کی سرکاری میڈیا رپورٹس کے مطابق کم از کم 3,117 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
شہید قرار دیے گئے: ایرانی فاؤنڈیشن برائے شہدا و جانبازان کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں سے 2,427 افراد کو اسلامی اصطلاح میں “شہید” قرار دیا گیا ہے، جن میں سکیورٹی فورسز کے اہلکار بھی شامل ہیں۔
احتجاج کا آغاز: مظاہرے دسمبر کے اواخر میں شروع ہوئے، جن میں عوام نے سیاسی اور سماجی تبدیلی کے مطالبات کیے۔
حقوقِ انسانی کی رپورٹ: انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ہزاروں مظاہرین کو سکیورٹی فورسز کی براہِ راست فائرنگ سے ہلاک کیا گیا۔
سرکاری موقف: ایرانی حکومت نے احتجاجات کو پرتشدد “فسادات” قرار دیا اور الزام لگایا کہ اس کے پیچھے غیر ملکی عناصر، خصوصاً امریکا کا ہاتھ تھا۔
عمارتوں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان: احتجاج کے دوران سینکڑوں سرکاری و نجی عمارتیں متاثر ہوئیں:
تہران میں 314 سرکاری عمارتیں نشانہ بنی۔
155 عمارتیں مکمل طور پر نذرِ آتش ہوئیں۔
متعدد بینک، دکانیں، بسیں اور مساجد بھی جل گئیں۔
بسیں جلنے کا واقعہ: تہران میں 8 جنوری کو احتجاج کے عروج پر 22 بسیں مکمل طور پر جل گئیں۔
سرکاری مظاہرے کا منظر: تہران میونسپل حکام نے غیر ملکی صحافیوں کو متاثرہ علاقوں کا دورہ کروایا، جہاں جلی ہوئی بسیں، تباہ شدہ موٹر سائیکلیں اور مساجد کے ٹوٹ پھوٹ شدہ حصے دکھائے گئے۔یہ اعداد و شمار سرکاری اور غیر سرکاری دونوں ذرائع کے مطابق پیش کیے گئے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران میں احتجاج اور ردعمل نے وسیع انسانی اور معاشرتی نقصان پیدا کیا ہے۔