فرانس میں 24 اکتوبر 2026 کو نئے ملک گیر مظاہروں کے پیشِ نظر حکام نے سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کر لیے ہیں۔
دارالحکومت پیرس کے متعدد بڑے عجائب گھر ایک روز کے لیے بند کر دیے گئے ہیں، جبکہ وزارتِ داخلہ کے مطابق ملک بھر میں تقریباً 70 ہزار پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد گزشتہ ہفتے مظاہروں کے دوران ہونے والے تشدد، توڑ پھوڑ اور لوٹ مار جیسے واقعات کی روک تھام ہے۔رپورٹس کے مطابق بند کیے جانے والے ثقافتی مقامات میں لوور میوزیم، میوزے دو اورسے، پکاسو میوزیم اور گرینڈ پیلے شامل ہیں۔ حکام نے ممکنہ احتجاجی سرگرمیوں اور امن و امان کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اہم مقامات پر سکیورٹی بڑھا دی ہے۔
سکیورٹی آپریشن میں خصوصی یونٹس اور جدید آلات شامل
فرانسیسی وزارتِ داخلہ کی جانب سے کیے گئے انتظامات کے تحت پولیس کی بڑی نفری کے ساتھ خصوصی پولیس یونٹس، ہیلی کاپٹرز، ڈرونز، بکتر بند گاڑیوں اور واٹر کینن کو بھی سکیورٹی آپریشن کا حصہ بنایا گیا ہے۔حکام کی توجہ اہم سرکاری عمارتوں، تجارتی مراکز، عوامی مقامات اور ثقافتی ورثے کی حفاظت پر مرکوز ہے۔ پیرس میں متعدد دکانداروں نے بھی ممکنہ لوٹ مار اور توڑ پھوڑ سے بچنے کے لیے اپنی دکانوں کے شیشوں اور داخلی راستوں کو عارضی رکاوٹوں کے ذریعے محفوظ کر لیا ہے۔حکومت کا مؤقف ہے کہ ان اقدامات کا مقصد پرامن احتجاج کو روکنا نہیں بلکہ تشدد، لوٹ مار اور سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے والے واقعات کی روک تھام کرنا ہے۔
گزشتہ ہفتے مظاہروں کے دوران بڑے پیمانے پر نقصان
فرانس میں حالیہ کشیدگی کے پس منظر میں گزشتہ ہفتے ہونے والے مظاہروں کو اہم قرار دیا جارہا ہے۔ فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق ان مظاہروں میں 5 لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی، جبکہ مختلف شہروں میں تقریباً 3 ہزار دکانوں اور کاروباری مراکز کو نقصان پہنچا یا وہ لوٹ مار کا نشانہ بنے۔بعض مقامات پر گاڑیاں جلانے اور سرکاری عمارتوں کو نقصان پہنچانے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے تھے۔ ان واقعات کے بعد حکام پر امن و امان برقرار رکھنے اور شہریوں و کاروباری اداروں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے دباؤ بڑھ گیا ہے۔حالیہ واقعات نے تاجروں اور کاروباری حلقوں میں بھی تشویش پیدا کردی ہے، خصوصاً پیرس جیسے بڑے شہر میں جہاں تجارتی سرگرمیوں کے ساتھ تاریخی اور ثقافتی مقامات کی حفاظت بھی اہم سمجھی جاتی ہے۔
تعلیمی مسائل سے شروع ہونے والا احتجاج وسیع ہوگیا
فرانس میں احتجاجی سرگرمیوں کا آغاز تعلیمی نظام سے متعلق مسائل پر طلبہ کے مظاہروں سے ہوا تھا۔ مظاہرین نے اسکولوں میں عملے کی کمی اور تعلیمی شعبے کے لیے ناکافی فنڈنگ پر اعتراضات اٹھائے۔بعدازاں احتجاج کا دائرہ وسیع ہوگیا اور مہنگائی، اخراجاتِ زندگی میں اضافے اور معاشی عدم مساوات جیسے معاملات بھی مظاہرین کے مطالبات میں شامل ہوگئے۔ اس طرح تعلیمی شعبے سے متعلق شکایات ایک وسیع تر سماجی اور معاشی احتجاج کی شکل اختیار کرتی دکھائی دینے لگیں۔مختلف طبقات کی جانب سے سامنے آنے والے ان مطالبات نے حکومت کے لیے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، کیونکہ مظاہروں سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ عوامی شکایات اور معاشی دباؤ سے متعلق سوالات بھی اہمیت اختیار کرگئے ہیں۔
مظاہروں پر پابندیوں سے آزادیٔ اظہار پر بحث
امن و امان کی صورتحال کے پیشِ نظر فرانسیسی حکام نے بعض شہروں میں مظاہروں پر پابندیاں بھی عائد کی ہیں۔ تاہم ان پابندیوں پر مزدور تنظیموں اور انسانی حقوق کے حلقوں کی جانب سے تحفظات سامنے آئے ہیں۔تنقید کرنے والے حلقوں کا کہنا ہے کہ احتجاج پر پابندیوں کے دوران آزادیٔ اظہار اور پرامن اجتماع کے بنیادی حقوق کا تحفظ بھی ضروری ہے۔ دوسری جانب حکام کا مؤقف ہے کہ تشدد اور املاک کو نقصان پہنچانے کے خدشات کے پیشِ نظر حفاظتی اقدامات ناگزیر ہیں۔اس صورتحال میں حکومت کو ایک طرف عوامی تحفظ اور امن و امان برقرار رکھنے جبکہ دوسری جانب شہریوں کے قانونی حقوق کا احترام یقینی بنانے کے درمیان توازن قائم کرنے کا چیلنج درپیش ہے۔
میکرون حکومت کے لیے سیاسی چیلنج
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کی حکومت کے لیے مظاہروں کی یہ صورتحال ایک اہم سیاسی چیلنج بن گئی ہے۔ ملک میں معاشی دباؤ، عوامی شکایات اور احتجاجی سرگرمیوں کے باعث حکومتی پالیسیوں پر بحث تیز ہونے کا امکان ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب فرانس اگلے صدارتی انتخابات کی جانب بڑھ رہا ہے۔حکام کی جانب سے سکیورٹی کے سخت انتظامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ حکومت گزشتہ ہفتے جیسے پرتشدد واقعات کی تکرار روکنے کے لیے محتاط ہے۔ تاہم صورتحال کا انحصار اس بات پر بھی ہوگا کہ احتجاج کے دوران مظاہرین، سکیورٹی ادارے اور حکام کس طرح ردعمل دیتے ہیں۔