30 لاشیں کراکری کی دکان سے ملیں‘آگ لگنے کے بعد لوگوں نے خود کو بچانے کیلئے دکان میں بندکرلیا تھا، آخری موبائل لوکیشن بھی اسی جگہ کی آئی تھی
کراچی کیلئے فائر ٹینڈرز کی تعداد ناکافی ہے، شہریوں کو بھی اداروں کا ساتھ دینا ہوگا:ڈپٹی مئیر‘ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے متصل رمپا پلازہ کو بھی غیر محفوظ قرار دے دیا
کراچی(آئی این پی)کراچی میں آگ سے تباہ ہونے والیگل پلازہ میں سرچ آپریشن جاری ہے، میزنائن فلور سے مزید 30 لاشیں ملی ہیں جس کے بعد جاں بحق افرادکی تعداد 61 ہوگئی ہے۔ڈی آئی جی ساتھ اسد رضا کے مطابق دکانداروں نے میزنائن فلور پر لوگوں کی موجودگی کی نشاندہی کی تھی، تمام 30 لاشیں ایک کراکری کی دکان سے ملی ہیں۔ڈی آئی جی ساتھ کے مطابق ملبہ ہٹانیکا کام روک دیا گیا ہے، پہلے لاشیں نکالی جارہی ہیں۔گل پلازہ میں آگ لگنے کے بعد لوگوں نے خود کو بچانے کے لیے دکان میں بندکرلیا تھا، ان افراد کی آخری موبائل لوکیشن بھی اسی جگہ کی آئی تھی۔کراکری دکان کے مالک سلمان کا کہنا ہید دکان سے ہم نے خود 14 افراد کی باقیات نکالی ہیں، ہماری دکان میزنائن فلور پر ہے، واقعے کے وقت ہمارے کزن اور ملازمین بھی تھے، دکان میں بڑی تعداد میں خواتین اور دیگر افراد بھی موجود تھے۔، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے رمپا پلازہ کو غیر محفوظ قرار دے دیا ہے۔ رمپا پلازہ انتظامیہ اور دکان مالکان کو نوٹس جاری کرکے رمپا پلازہ کیخطرناک حصے کے استعمال پر پابندی عائد کردی گئی ہے‘ ڈپٹی میئر کراچی سلمان عبداللہ مراد نے کہا ہے کہ گل پلازہ کی آگ بجھانے کیلئے فائر ٹینڈرز کی تعداد ناکافی تھی۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ بیسمنٹ میں آگ لگی تو گرائو نڈ فلور کو بھی پتہ چل گیا مگر دوسری، تیسری منزل والوںکو علم ہی نہیں تھا، بلاول بھٹو نے اسی رات کو نوٹس لیا اور وزیراعلی سندھ کو ہدایات دی تھیں