ٹرمپ کا افتتاحی دعائیہ تقریب کی پادری سے معافی کا مطالبہ

ٹرمپ کا افتتاحی دعائیہ تقریب کی پادری سے معافی کا مطالبہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چرچ میں ہونے والی افتتاحی دعائیہ تقریب کی پادری سے معافی کا مطالبہ کر دیا ہے۔

 ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ پادری کا تعلق بائیں بازو کی انتہا پسند جماعت سے ہے اور وہ ٹرمپ کے شدید مخالف ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ پادری کے بیان کا انداز بہت ہی ناگوار تھا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ صدر ٹرمپ تارکینِ وطن کے لیے خوف کی فضاء پیدا کر رہے ہیں۔پادری نے افتتاحی دعائیہ تقریب میں اپنے خطاب میں کہا تھا کہ ٹرمپ کے اقدامات سے غیر قانونی تارکینِ وطن کے خلاف خوف بڑھ رہا ہے اور ان افراد کو غیر ضروری طور پر ہراساں کیا جا رہا ہے، جن کا ملک کے لیے کوئی نقصان نہیں ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ یہ لوگ امریکی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، چونکہ وہ کھیتوں میں کام کرتے ہیں، عمارتوں کو صاف رکھتے ہیں، اور ریسٹورنٹس کے برتن دھوتے ہیں۔ پادری نے اس بات پر زور دیا کہ ان افراد میں زیادہ تر جرائم پیشہ نہیں ہیں، اور نہ ہی ان کے پاس ضروری دستاویزات ہو سکتی ہیں، مگر وہ پھر بھی معاشرتی کاموں میں حصہ لیتے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے پادری کے بیان پر شدید تنقید کی اور مطالبہ کیا کہ پادری اور ان کا چرچ عوام سے معافی مانگے۔ اس واقعے کے بعد ٹرمپ نے اپنی حکومت کی پالیسی کو بھی مزید مستحکم کرنے کی بات کی، جس میں انہوں نے غیر قانونی تارکینِ وطن کو ملک سے بے دخل کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔اس حوالے سے ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت اپنے 18 ہزار غیر قانونی تارکینِ وطن کو امریکا سے واپس لے آئے گا، تاکہ دونوں ممالک کے درمیان غیر قانونی امیگریشن کے مسائل پر قابو پایا جا سکے۔