اینٹی وائلنٹ کرائم سیل پولیس نے مغوی اقبال کے قتل میں ملوث ملزم کو گرفتار کر لیا ہے، جس نے مقتول کا ہم زلف ہونے کا انکشاف کیا۔
ملزم نے دوران تفتیش یہ بتایا کہ اس نے مغوی اقبال کو اپنے گھر لے جا کر قتل کر دیا اور پھر اس کی لاش کو گلشن کنیزفاطمہ سوسائٹی کے ایک اپارٹمنٹ کی پارکنگ میں چھپایا۔تفصیلات کے مطابق، 34 سالہ اقبال، جو رحمانیہ مسجد کے قریب پان کا کیبن چلاتا تھا، 19 جنوری کو لاپتہ ہو گیا تھا۔ اس کے اہلخانہ نے نیوٹاؤن پولیس میں اغوا کی رپورٹ درج کرائی تھی۔ اگلے دن، اہلخانہ کو تاوان کے لیے کال موصول ہوئی تھی، جس کے بعد کیس کی تفتیش اینٹی وائلنٹ کرائم سیل کو منتقل کی گئی۔پولیس نے تفتیش کے دوران ملزم رمیز کو حراست میں لیا، جو مقتول اقبال کی اہلیہ کا بہنوئی تھا۔ ملزم نے پولیس کو بتایا کہ وہ اقبال کو اپنے ساتھ لے آیا اور پھر ایک بات پر تلخ کلامی کے بعد اس نے اقبال کے سر پر ڈنڈے مار کر زخمی کر دیا۔ زخمی اقبال کو اس نے کسی طرح اپنے گھر لے آ کر مزید تنگ کیا اور پھر لاش کو چھپانے کی کوشش کی۔پولیس نے ملزم کی نشاندہی پر مغوی اقبال کی لاش کنیز فاطمہ سوسائٹی میں واقع لبابہ ہائیٹس کی پارکنگ سے فائیبر کے نیلے ڈرم میں چھپائی ہوئی پائی۔
پولیس نے مقتول اقبال کا موبائل فون بھی ملزم کے گھر سے برآمد کر لیا، اور اس کی تفتیش جاری ہے۔ایس ایس پی ای وی سی سی انیل حیدر نے بتایا کہ ابھی تک قتل کی وجہ واضح نہیں ہو سکی ہے اور یہ تفتیش کا حصہ ہے۔ مقتول اقبال کے پوسٹ مارٹم کے بعد اس بات کی تصدیق کی جائے گی کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا تھا اور قتل کی اصل وجوہات کیا تھیں۔مقتول کے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ ملزم کا رویہ مشکوک تھا اور وہ مسلسل تاوان کی بات کرتا رہا، تاہم اقبال سے بات کرنے کی کوشش نہیں کی۔ مقتول کے بہنوئی کامران پنجوانی نے بتایا کہ اقبال اور ملزم کے درمیان کبھی جھگڑا نہیں ہوا تھا، اور دونوں صرف سسرال میں ملاقات کرتے تھے۔ انھوں نے انصاف کی اپیل کی اور کہا کہ ملزم کو سخت سزا دی جائے تاکہ اس کے خلاف پیغام جائے۔
پولیس نے کیس کے تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے، اور سی سی ٹی وی فوٹیجز اور مقتول کے اہلخانہ کے بیانات کو بھی شامل کیا جائے گا تاکہ اس جرم کے پیچھے چھپے اصل محرکات کو بے نقاب کیا جا سکے۔