وفاقی وزیراطلاعات عطا اللہ تارڑ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میاں بیوی نے ایک ٹرسٹ بنایا اور 200 کنال زمین کے ساتھ انگوٹھیاں لیں، جو کرپشن کی سب سے بڑی مثال ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی میڈیا نے 190 ملین پاؤنڈ کے فیصلے کو کرپشن کی ہیڈ لائنز قرار دیا ہے اور اس کیس میں ٹھوس شواہد موجود ہیں۔وزیراطلاعات نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ نے بھی اس بات کو تسلیم کیا کہ پیسہ ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں منتقل کیا گیا اور حکومت پاکستان کے پیسے کا غلط استعمال کیا گیا۔ انہوں نے نیب کی جانب سے دبئی کے پراجیکٹس میں پیسہ لگانے کی وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ یہ پیسہ منی لانڈرنگ کے زمرے میں آتا ہے۔عطا اللہ تارڑ نے پی ٹی آئی کے رہنماؤں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اب اس معاملے کو سیرت سے جوڑ رہے ہیں اور مذہب کے پیچھے چھپ کر اپنی کرپشن اور رشوت کا جواب دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔