سندھ اسمبلی میں طلبہ یونین بحالی کی قرارداد کثرت رائے سے مسترد

 کراچی(آئی این پی )سندھ اسمبلی نے طلبہ یونین کی بحالی کیلئے جماعت اسلامی کی قرارداد کثرت رائے سے مسترد کردی۔جماعت اسلامی کے رکن محمد فاروق نے طلبہ یونین کی بحالی سے متعلق قرارداد پیش کی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ طلبا کے جمہوری حق کو تسلیم کرتے ہوئے آئین پاکستان کے مطابق فوری طلبہ یونینز کے انتخابات منعقد کروائے جائیں۔قرارداد میں کہا گیا کہ 11فروری 2022کو سندھ اسمبلی نے سندھ سٹوڈنٹس یونین ایکٹ منظور کیا تھا جس کے مطابق تمام تعلیمی اداروں کو دو ماہ میں قوائد و ضوابط مرتب کرکے ہر سال طلبہ یونین کے انتخابات کا انعقاد کرنا تھا،اڑھائی سال سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود سندھ بھر میں طلبہ یونین کے انتخابات کا انعقاد نہ ہونا اور طلبہ کو آئین کے آرٹیکل 17کے مطابق یونین سازی کے بنیادی حق سے محروم رکھنا افسوسناک ہے۔ پیپلز پارٹی کے ضیا لنجار نے کہا کہ طلبہ یونیز پر کام ہو رہا ہے،سندھ حکومت نے طلبہ یونینز سے پابندیاں ہٹا دی ہیں، میرے حساب سے اس قرارداد کی ضرورت نہیں ہے۔اجلاس کے بعد جماعت اسلامی و ایم کیو ایم اراکین نے میڈیا سے مشترکہ گفتگو کی۔ اس موقع پر محمد فاروق نے کہا کہ طلبہ یونین کے تین سال سے انتخابات نہیں ہو رہے، پی پی جمہوریت کی چیمپئن بنتی ہے، تین سال میں وہ طلبہ یونین کے انتخابات میں ناکام ہوئی، جو قرارداد لائی جاتی ہے اس کو بلڈوز کیا جاتا ہے۔ایم کیو ایم پاکستان کے رکن انجنیئر محمد عثمان نے کہا کہ فاروق بھائی نے طلبہ یونین انتخابات کی قرارداد پیش کی جسے مسترد کردیا گیا، ایم کیو ایم کا موقف بھی یہی ہے کہ طلبہ یونین کے انتخابات فوری کروائے جائیں۔