ایلون مسک کے بیٹے کی معصوم شرارت یا تاریخی تبدیلی؟ ٹرمپ نے 145 سال پرانی میز بدل دی

ایلون مسک کے بیٹے کی معصوم شرارت یا تاریخی تبدیلی؟ ٹرمپ نے 145 سال پرانی میز بدل دی

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دفتر کی 145 سال پرانی تاریخی میز کو تبدیل کر دیا ہے، اور اس کی ممکنہ وجہ ایلون مسک کے چھوٹے بیٹے "ایکس" کی شرارت بنی ہے۔

ایلون مسک کے بیٹے کی حرکتوں نے سب کو حیران کر دیا
چند روز قبل، ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے بانی ایلون مسک اپنے بیٹے کے ہمراہ اوول آفس میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کے لیے گئے تھے۔ اس ملاقات کے دوران ایلون مسک کے بیٹے "ایکس" نے ایسی حرکتیں کیں جو کیمروں میں قید ہو گئیں اور دیکھنے والوں کو حیران کر دیا۔ملاقات کے دوران، ایکس نہ صرف اپنے والد کی نقل اتارتے نظر آئے بلکہ وہ ٹرمپ کے قریب جا کر کچھ کہتے ہوئے بھی دیکھے گئے۔ تاہم، سب سے زیادہ توجہ اس وقت ملی جب ایکس نے ناک میں انگلی ڈال کر میز پر ہاتھ صاف کر لیا۔یہ لمحہ نہ صرف کیمرے میں محفوظ ہو گیا بلکہ سوشل میڈیا پر میمز کی صورت میں وائرل بھی ہو گیا۔

ٹرمپ نے تاریخی میز بدلنے کا فیصلہ کر لیا
ڈونلڈ ٹرمپ، جو صفائی اور جراثیم سے خاصے محتاط رہتے ہیں، اس واقعے کے بعد اوول آفس کی 145 سال پرانی میز کو تبدیل کرنے پر مجبور ہو گئے۔انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پر ایک تصویر شیئر کی، جس میں ایک نئی میز ان کے سامنے رکھی دیکھی جا سکتی ہے۔

کیا واقعی یہ تبدیلی "ایکس" کی شرارت کی وجہ سے ہوئی؟
ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ واضح نہیں کیا کہ آیا میز کی تبدیلی کی براہ راست وجہ ایلون مسک کے بیٹے کی شرارت تھی یا کوئی اور معاملہ اس کے پیچھے تھا۔ تاہم، یہ واقعہ اتفاقیہ ہونے کے باوجود سوشل میڈیا پر دلچسپی کا مرکز بن چکا ہے۔

145 سال پرانی تاریخی میز کا پس منظر
یہ میز امریکہ کے کئی صدور استعمال کر چکے تھے، جن میں جارج ڈبلیو بش بھی شامل ہیں۔ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ:"صدر کے پاس یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ الیکشن جیتنے کے بعد 7 میں سے کسی ایک ڈیسک کا انتخاب کرے۔ موجودہ میز بھی بہت مشہور تھی، لیکن اب اس کی جگہ ایک نئی میز لے لی گئی ہے۔"
سوشل میڈیا پر میمز کی بھرمار
جیسے ہی یہ خبر پھیلی، سوشل میڈیا پر میمز کی بھرمار ہو گئی۔ کچھ صارفین نے ایکس کی معصوم شرارت کو مستقبل کے کارناموں کی جھلک قرار دیا، جبکہ کچھ نے ٹرمپ کے سخت ردعمل کو مبالغہ آمیز سمجھا۔اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ آیا ٹرمپ پرانی میز کو واپس لے آئیں گے یا یہ نئی میز مستقل طور پر ان کے دفتر کا حصہ بنے گی۔