چیف جسٹس نے پی ٹی آئی کو سسٹم میں رہنے کا مشورہ دیا، بیرسٹر گوہر کی تصدیق

چیف جسٹس نے پی ٹی آئی کو سسٹم میں رہنے کا مشورہ دیا، بیرسٹر گوہر کی تصدیق

اسلام آباد:چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر نے تصدیق کی ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان نے ان سے ملاقات میں پی ٹی آئی کو سسٹم میں رہنے اور بائیکاٹ نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

ڈسٹرکٹ کورٹس میں میڈیا سے گفتگو
ڈسٹرکٹ کورٹس میں 26 نومبر احتجاج کے کیس میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا:"آج میں 26 نومبر کی کمپلینٹ کے حوالے سے عدالت میں پیش ہوا تھا، کیس کی اگلی سماعت 15 مارچ کو ہوگی۔"جب ایک صحافی نے سوال کیا کہ چیف جسٹس نے پی ٹی آئی کو سسٹم میں رہنے اور بائیکاٹ نہ کرنے کا کہا؟ تو بیرسٹر گوہر نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی بات بالکل درست ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ:پی ٹی آئی کی حکومت کے خلاف چارج شیٹ بہت لمبی ہے، اور ہم عدلیہ کے رویے سے بھی زیادہ خوش نہیں ہیں۔ملاقات میں عدالتی معاملات پر تحفظات اور جمہوریت و قانون کی بالادستی کے لیے مؤقف پیش کیا گیا۔پی ٹی آئی کے ساتھ ہونے والا رویہ غیر جمہوری ہے، اور ہم اس پر بات کر رہے ہیں۔

پی ٹی آئی کا اپوزیشن الائنس اور احتجاجی تحریک
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ:کراچی میں ہمارا الائنس کا وفد گیا ہوا ہے اور اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ اتحاد بنانے پر کام ہو رہا ہے۔ہم ایک تحریک چلا رہے ہیں تاکہ ووٹ چوری نہ ہو اور آئین کی سربلندی یقینی بنائی جائے۔تمام جماعتوں کا اپنا منشور ہوتا ہے، اس لیے تحریک میں وقت لگتا ہے۔
مذاکرات، شیر افضل مروت اور پارٹی ڈسپلن
بیرسٹر گوہر نے مذاکرات پر بات کرتے ہوئے کہا:ہم نے کھلے دل سے مذاکرات کا آغاز کیا تھا، مگر حکومت نے اسے سنجیدہ نہیں لیا اور جلدبازی کی۔شیر افضل مروت کا معاملہ پارٹی کا اندرونی معاملہ ہے، اور جو بھی ڈسپلن کی خلاف ورزی کرتا ہے، اس کے خلاف ایک باقاعدہ پراسس چلایا جاتا ہے۔

9 مئی کے واقعات اور پی ٹی آئی کی اندرونی صورتحال
انہوں نے کہا کہ:9 مئی میں پارٹی چھوڑنے والوں کے بارے میں فیصلہ بانی چیئرمین عمران خان کریں گے۔اکبر ایس بابر بھی خود کو پی ٹی آئی کا حصہ سمجھتے ہیں، لیکن پی ٹی آئی کا مؤقف بالکل واضح ہے۔بانی پی ٹی آئی عوام اور فوج کے درمیان خلیج پیدا نہیں ہونے دینا چاہتے، اسی لیے اہم معاملات کی نشاندہی کی گئی ہے۔بیرسٹر گوہر نے دعویٰ کیا کہ:پی ٹی آئی کے اندرونی معاملات بالکل ٹھیک ہیں۔پارٹی میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف اور دیگر کے خلاف قانونی کارروائی
اس سے قبل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں وزیراعظم شہباز شریف اور دیگر حکومتی شخصیات کے خلاف قانونی کارروائی کی درخواست پر سماعت ہوئی۔یہ درخواست 26 نومبر احتجاج کے دوران مظاہرین پر مبینہ تشدد اور قتل کے خلاف دائر کی گئی ہے۔کیس کی سماعت سیشن جج ناصر جاوید رانا نے کی۔بیرسٹر گوہر عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ وکلا الیکشن کی وجہ سے پیش نہیں ہوسکے۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت 15 مارچ تک ملتوی کر دی۔