بچوں کو ڈیجیٹل ڈیوائسز کا بے قابو استعمال نہیں کرنا چاہیے ، والدین کو بچے کی ڈیجیٹل زندگی کی بہتر نگرانی کرنی چاہیے
واشنگٹن (آئی این پی )ایک نئے سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ 89فیصد والدین سفر کے دوران یا اپنے لیے کچھ فارغ وقت نکالنے کے لیے بچوں کی تفریح یا انہیں مصروف رکھنے کے لیے گیجٹس استعمال کرتے ہیں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق عالمی سائبر سکیورٹی اور ڈیجیٹل پرائیویسی کمپنی کاسپرسکائی نے کہا کہ مشرق وسطی، ترکیہ اور افریقا ( میٹا ) خطے میں نصف سے زیادہ یعنی 53 فیصد بچے تین سے سات سال کی عمر کے درمیان اپنی پہلی ذاتی ڈیوائس، سمارٹ فون یا ٹیبلٹ حاصل کرتے ہیں۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بچوں نے خود اعتراف کیا کہ گیجٹس نے ان کی زندگی میں اہم کردار ادا کیا، 78فیصد نے کہا کہ وہ اپنے گیجٹس کے بغیر نہیں رہ سکتے۔سمارٹ فونز، ٹیبلٹس اور گیم کنسولز بچوں کے لیے انتہائی مطلوبہ آلات میں سے ہیں۔سائبرسکیورٹی ایجنسی نے کہا کہ گیجٹس کا مروجہ استعمال بچوں کے لیے ان خطرات کو سمجھنے کی اہم ضرورت پر زور دیتا ہے جو انہیں آن لائن لاحق ہوسکتے ہیں اور ڈیوائسز کے مناسب اصولوں اور رہنما خطوط کے ذریعے انہیں محفوظ طریقے سے کیسے کم کرنا ہے۔تاہم، میٹا خطے میں تقریبا ایک چوتھائی جواب دہندگان ( 22فیصد) نے کہا کہ انہوں نے اپنے بچوں کے ساتھ انٹرنیٹ کے حفاظتی اصولوں پر بات نہیں کی ہے۔کاسپراسکائی کے مشرق وسطی، ترکیہ اور افریقا میں کنزیومر چینل کے سربراہ سیف اللہ جدیدی نے کہا کہ بچوں کو ڈیجیٹل ڈیوائسز کا بے قابو استعمال نہیں کرنا چاہیے ، والدین کو اپنے بچے کی ڈیجیٹل زندگی کی بہتر نگرانی کرنی چاہیے۔