چیف جسٹس یحیی آفریدی انصاف فراہمی کو بہتر بنانے کیلئے تمام سٹیک ہولڈرز سے ملاقات کر رہے ہیں‘ وزیراعظم کی طرح اپوزیشن سے بھی تجاویز طلب کی تھیں

چیف جسٹس سے پی ٹی آئی  رہنماؤں کی ملاقات  شکایات کے انبار لگا دیئے

چیف جسٹس کوبتایا آپ کے حکم پر کوئی عملدرآمد نہیں ہوتا،  قوانین اورجیل مینوئل کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں، ہمارے کیسز نہیں لگ رہے ہیں، چیف جسٹس نے عدالتی ریفارمز کے حوالے سے ہم سے10نکاتی ایجنڈا شیئرکیا
چیف جسٹس کو بتایا  بانی اوراہلیہ کی سماعت کی تاریخیں نہیں بتائی جاتیں‘ہم 26 ویں آئینی ترمیم کوتسلیم نہیں کرتے، بانی پی ٹی آئی سے بچوں کی بات بھی نہیں کرائی جاتی:ملاقات کے بعد بیرسٹر گوہر کی رہنمائوں کیساتھ پریس کانفرنس

اسلام آباد(آن لائن)چیف جسٹس سے اپوزیشن رہنماؤں کی ملاقات میں پی ٹی آئی نے شکایات کے انبار لگا دیے اپوزیشن رہنماؤں کی چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی سے ملاقات میں پی ٹی آئی رہنماؤں نے پابند سلاسل پارٹی سربراہ عمران خان سے ملاقات نہ ہونے کا شکوہ،قوانین اورجیل مینوئل کی دھجیاں اڑانے،بانی پی ٹی آئی کوقیدتنہائی میں رکھے جانے سمیت کئی شکایات کی ہیں ۔پی ٹی آئی رہنماؤں عمرایوب، بیرسٹرگوہرخان،سلمان اکرم راجا،نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے چیف جسٹس کو بتایا  بانی اوراہلیہ کی سماعت کی تاریخیں نہیں بتائی جاتیں، قوانین اورجیل مینوئل کی دھجیاں اڑائی جارہی ہے۔ چیف جسٹس کو قیدی رہنماؤں کے حوالے سے بھی آگاہ کیا گیا۔اسلام آباد میں پی ٹی آئی رہنماؤں نے پریس کانفرنس کی جس میں اپوزیشن لیڈر عمرایوب نے کہا کہ پی ٹی آئی وفد نے چیف جسٹس سے ملاقات کی، مقدمات کی سماعت کی تاریخیں تبدیل کردی جاتی ہیں، چیف جسٹس کو قیدی رہنماؤں کے حوالے سے بھی آگاہ کیا گیا۔عمرایوب نے کہا کہ چیف جسٹس کوبتایا کے بانی اوراہلیہ کی سماعت کی تاریخیں نہیں بتائی جاتی، چیف جسٹس کو بتایا قوانین اورجیل مینوئل کی دھجیاں اڑائی جارہی ہے، بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نا ہونے کا معاملہ بھی اٹھایا۔اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی نے کہا کہ ہمارے متعددرہنماؤں کوجھوٹے کیسزمیں پھنسایاگیا، چیف جسٹس سے ملاقات میں اپنا مؤقف رکھا، بیروزگاری اورمہنگائی بڑھ رہی ہیں، پی ٹی آئی کارکنئژ پرمقدمات اورپروڈکشن آرڈرکامعاملہ بھی رکھا۔انھوں نے کہا کہ چیف جسٹس کو بتایا ہم 26 ویں آئینی ترمیم کوتسلیم نہیں کرتے، بانی پی ٹی آئی سے بچوں کی بات بھی نہیں کرائی جاتی، سلمان اکرم راجہ نے لاپتہ افراد کا معاملہ بھی رکھا، پنجاب میں اسٹیٹ دہشتگردی سے متعلق بھی بتایا۔عمرایوب نے کہا کہ ہم بانی پی ٹی آئی کی اجازت کے بعد ملاقات کیلیے آئے، ملاقات سے پہلے 3 باربانی پی ٹی آئی سے اجازت لی، چیف جسٹس کو معیشت کے حوالے سے بھی آگاہ کیا، بانی نے کہا ملٹری کورٹس کے حوالے سے بھی بات کرنا۔بیرسٹرگوہرخان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو تنہائی میں رکھاجاتا ہے، چیف جسٹس نے نیشنل جوڈیشل کونسل کمیٹی پرایجنڈا طلب کیا تھا، کارکنان، بانی اوراہلیہ کیساتھ امتیازی سلوک ہورہا ہے۔چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ہم نے درپیش مسائل سے چیف جسٹس کو آگاہ کیا، کیسز نہیں لگ رہے، بانی کو بچوں سے بات بھی نہیں کرائی جاتی۔سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ملک میں آئین اورقانون پرعملدرآمد نہیں ہورہا، واضح الفاظ میں کہاملک میں اس وقت قانون کی بالادستی نہیں۔ نظام عدل کو آلہ کارکے طورپر استعمال کیاجارہا ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ عدلیہ کو فوری مداخلت کرنی ہوگی، ہم نے کہا 26 ویں ترمیم ہوئی اس کا متن اور طریقہ کار غلط تھا، اگر نوٹس نہ لیا تو عوام احتجاج پر مجبور ہوں گے۔پریس کانفرنس سے قبل اپوزیشن کے پانچ ارکان نے چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی سے ملاقات کی جس کے بعد پی ٹی آئی رہنماؤں نے میڈیا کو آگاہ کیا