جاپان میں غیر قانونی امیگریشن کے خلاف کریک ڈاؤن مزید سخت

جاپان میں غیر قانونی امیگریشن کے خلاف کریک ڈاؤن مزید سخت

جاپان نے غیر قانونی امیگریشن کے خلاف اپنی سخت پالیسیوں میں کسی قسم کی نرمی سے انکار کرتے ہوئے کریک ڈاؤن مزید تیز کر دیا ہے، جس کے بعد تازہ سرکاری اعداد و شمار نے عالمی توجہ حاصل کر لی ہے۔

جاپانی حکومت کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد کی تعداد میں 6 ہزار 375 کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اسی عرصے میں پناہ گزین درخواستوں میں بھی ساڑھے 3 ہزار سے زائد کمی دیکھنے میں آئی ہے، جبکہ بے دخلیوں  کی شرح میں 33.3 فیصد اضافہ ہوا ہے۔حکام کے مطابق جاپان کی حکومت کا “زیرو غیر قانونی غیر ملکی رہائشی” منصوبہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے، جس کا مقصد ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد کی تعداد کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے۔یہ پالیسی ابتدائی طور پر سابق قیادت کے دور میں متعارف کرائی گئی تھی، تاہم موجودہ انتظامیہ میں اسے مزید سختی سے نافذ کیا جا رہا ہے۔ نئی حکمت عملی کے تحت سخت ویزا اسکریننگ، تیز رفتار ڈی پورٹیشن، مستقل رہائش کے لیے مزید کڑی شرائط اور شہریت کے قوانین میں سختی شامل ہے۔

جاپانی حکومت نے واضح کیا ہے کہ نہ کسی عام معافی پر غور کیا جا رہا ہے اور نہ ہی اوپن بارڈر پالیسی اپنائی جائے گی۔حکومتی حامیوں کا کہنا ہے کہ جاپان یورپ میں پیدا ہونے والے امیگریشن مسائل سے سبق سیکھ کر اپنے سماجی نظم و ضبط اور قومی شناخت کو محفوظ رکھنا چاہتا ہے۔دوسری جانب ناقدین کا مؤقف ہے کہ یہ سخت پالیسیاں جاپان کو غیر ملکیوں کے لیے مزید مشکل ملک بنا رہی ہیں اور انسانی ہمدردی کے پہلو پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق اب یہ بحث جاپانی معاشرے میں کھل کر سامنے آ رہی ہے کہ سرحدی کنٹرول اور انسانی حقوق کے درمیان توازن کیسے قائم رکھا جائے۔