رب نواز ملک
’’طلبہ ملک کا مستقبل ہیں۔‘‘ یہ جملہ آپ اکثر سنتے اور پڑھتے رہتے ہیں، لیکن پتا نہیں آپ نے کبھی یہ بھی غور کیا ہے یا نہیں کہ اس مستقبل، ہونے سے آپ کے ’’حال‘‘ کا کیا تعلق ہے؟
بڑی صاف اور سیدھی سی بات ہے آج جو طالب علموں کا حال نظر آرہا ہے وہ کل ملک کا مستقبل ہو گا۔ یہی طلبہ ہیں جو کل مختلف میدانوں میں اپنا مقام پیدا کریں گے۔ ہر گوشہ زندگی پر انہی کی چھاپ ہو گی، صحافت ہو یا سیاست، تجارت ہو یا معیشت، علم و فکر کے میدان کی ترقیاں ہوں یا مادی ذرائع و وسائل کی ترقی، اجتماعی زندگی کے ہر دائرہ کار کومردان کار ان ہی طالب علموں میں سے ملیں گے۔ آج طلبہ ذمہ داری و فرض شناسی، دیانت و محنت، خود داری و غیرت، حب وطن و حب دین اور خدا کے حضور جواب دہی کے احساسات سے معمور ہیں تو پاکستان کے مستقبل کی قیادت انہی صفات سے متصف ہو گی اور معاشرہ انہی کا عکاس ہو گا۔ آج ہم طالب علموں کا جو کچھ حال ہے، اس سے خود ہم سے زیادہ کون واقف ہو گا، ہمیں ہونا کیا چاہیے تھا اور ہم ہو کیا گئے ہیں؟ آزادی ہم نے جن مقاصد کے لیے حاصل کی تھی، ان کے لیے ہم کیا کر رہے ہیں؟ ہماری زندگی کا جو نصب العین ہونا چاہیے تھا کیا ہماری ساری جدوجہد اور مساعی اس کے لیے ہیں؟ یہ کوئی ایسے سوالات نہیں جن کے جوابات کی ضرورت ہو۔ ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ ہمیں جو تعلیم و تربیت دی جا رہی ہے وہ ہمیں اس حال کو تبدیل کرنے کے لیے نہیں، بلکہ برقرار رکھنے کے لیے ہی تیار کر رہی ہے۔ یوں ساری ذمہ داری ہم طالب علموں پر خود ا? پڑی ہے، ہماری اپنی بھی اور وہ بھی جو قاعدہ سے موجودہ کار فرما نسل کو ادا کرنی چاہیے تھی۔ یہ دو چند ذمہ داری بڑی بھاری ذمہ داری ہے، اگر ہم اس کو ادا نہیں کرتے۔ اور بہائو کے رخ پر ہی بہے چلے جاتے ہیں، تو ہمارا جو حال ہو گا وہ تو ہو گا ہی، اس ملک کا مستقبل اس کے حال سے بدتر ہو گا۔
ہمارا فرض ہے کہ اپنی ذمہ داری کو محسوس کریں۔ ہم کوئی مشین اور کل پرزدے نہیں سوچنے سمجھنے والے دماغ اور حساس دل رکھنے والے انسان ہیں۔ ہمارے سینوں میں جذبات اور امنگیں کروٹیں لیتی ہیں۔ ہم اس ملک کو اس عظیم نظریہ حیات کے مطابق تعمیر کرنا چاہتے ہیں، جس سے بہتر نظریہ اس کرہ? ارضی پر کوئی نہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہم اس ملک کے مستقبل کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟ جواب یہ ہے کہ ہم اپنا ’’حال‘‘ بہتر کر سکتے ہیں، ناممکن ہے کہ یہ بہتری ملک کے مستقبل پر اثر انداز نہ ہو، جب یہ حال ملک کے مستقبل کی شکل میں ظہور پذیر ہو گا تو قوم بچشم سر دیکھے گی کہ اس کے نوجوان شہیدان آزادی سے غداری کے مرتکب نہیں ہوئے بلکہ انھوں نے اپنا فریضہ ادا کیا ہے۔
یہ طے ہے کہ اس ملک کا مستقبل اسلام ہے۔ یہ اس لیے حاصل کیا گیا ہے کہ اس کی فلاح اس میں مضمر ہے اس کی بقا اسی پر منحصر ہے۔ اگر یہاں پر کوئی نظام حیات ملک کے عوام کی خواہشات اور ان کی تمنائوں سے ہم آہنگ ہو کر برگ و بار لا سکتا ہے تو وہ اسلام کا نظام حیات ہے۔ اور اس کے لیے ہمارے سامنے صرف ایک ہی راستہ ہے۔ زندگی کے اس نظام کا ہم خود عملی نمونہ بنیںجس کا نمونہ مستقبل میں ہم اس ملک کو بنانا چاہتے ہیں۔
آج سب سے مشکل کام یہی ہے کہ خدا کی ہدایت، اسلام کے مطابق زندگی گزاری جائے، لیکن سب سے زیادہ ضروری کام بھی یہی ہے پھر کیا ہم یہ کام نہ کریں گے۔ شاید یہ منزل بھی دور نظر آئے لیکن آپ یہ کیوں بھولتے ہیں کہ خدا کے دین میں فطرتِ انسانی کے لیے بڑی کشش ہے۔ آپ اس کے پرچم کو لے کر خلوص اور عزم و ہمت سے اٹھ کھڑ ہوں، آپ دیکھیں گے کہ خدا آپ کے ساتھ ہے اور کامیابی آپ کے قدموں پر۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس دین کو پورا پورا اختیار کریں جسے خدا کا رسول لایا تھا اور جس کو قبول کر کے مٹھی بھر صحابہ نے تاریخ انسانی کا عظیم ترین انقلاب برپا کیا۔ کوئی وجہ نہیں کہ اس دین کو اختیار کر کے آج ہم بھی اس قوت کے خزانے کے مالک نہ بن جائیں۔
’’مستقبل‘‘ سنوارنے کی اس کے علاوہ کوئی راہ نہیں کہ ہم اپنے ’’حال‘‘ کو اسلام کے مطابق ڈھا لیں اور اسلامی جمعیت طلبہ اس دعوت کی علمبردار ہے۔
اگر آپ کے سینے میں دل بیدار ہے، اگر آپ کے اندر دین و وطن کے لیے کچھ تمنائیں اور آرزوئیں مچلتی ہیں تو یقین کیجیے کہ آپ کا مقام اسلامی جمعیت طلبہ ہے۔ یہ تنظیم پاکستان کے طلبہ کے اس عزم کی مظہر ہے کہ یہاں اسلام کا بول بالا ہو اور یہاں کا مستقبل اسلام کے مطابق تشکیل پائے۔