فضل الرحمن پارلیمنٹ میں ایکا،احتجاج کا عندیہ بیرسٹر گوہر
فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر اجلاس، محمود خان اچکزئی، سینیٹر راجہ ناصر عباس، اسد قیصر، سلمان اکرم راجہ کی شرکت، پارلیمنٹ میں مشترکہ اپوزیشن اتحاد بنانیکا با ضابطہ اعلان ، بانی کو ہسپتال میں رکھنے پرسپریم کورٹ سے توہین عدالت کے معاملے پر رجوع کا فیصلہ
اسلام آباد(بیورو رپورٹ، مانیٹرنگ ڈیسک) اپوزیشن نے 27 ستمبر کا احتجاج اور لانگ مارچ برقرار رکھنے کا فیصلہ کرلیا۔جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر اپوزیشن اتحاد کا پہلا اہم اجلاس ہوا، جس میں سینیٹ اور قومی اسمبلی میں مشترکہ اپوزیشن اتحاد کے قیام کا اعلان کیا گیا۔اجلاس میں قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی جبکہ سینٹ میں قائد حزب اختلاف نے شرکت کی۔اس کے علاوہ پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، عامر ڈوگر، خیبرپختونخوا تحریک انصاف کے صدر جبید اکبر، اسد قیصر، سینیٹر دلاور، شاہد خٹک شریک ہوئے۔اجلاس میں جے یو آئی کے رہنما کامران مرتضیٰ، مولانا عبد الواسع نے بھی شرکت کی۔اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن جماعتوں کے نمائندگان اجلاس میں تشریف لائے تھے جس پر میں اْن کا شکر گزار ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں اتفاق کیا گیا ہے پارلیمنٹ میں ایک جوائنٹ اپوزیشن قائم کی جائے، جس کا مقصد اپوزیشن کا پارلیمنٹ میں موثر اقدامات اٹھانا ہوگا۔سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ ملک میں امن و امان کا مسئلہ ہے اور دو صوبے حالت جنگ میں ہے، حکومتی رٹ چیلنج ہورہی ہے، شہریوں کی زندگی اجیرن ہے، ہر شخص اپنے آپ کو غیر محفوظ تصور کررہا ہے جبکہ حکومت کی جانب سے صرف تسلیاں دی جارہی ہے، کتنے آپریشنز ہوئے لیکن ہمیں مقاصد نظر نہیں آرہے۔مولانا نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے اپوزیشن کی طرف سے اپنا موقف قوم تک پہنچائیں گے، ہمارا اتفاق ہوگیا دونوں جماعتوں کے قائدین پارٹی سے مشاورت کریں گے اور پھر ہم اگلے اجلاس میں فیصلہ کریں گے۔سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ کوئی بھی ملک قانون کے ںغیر چلے تو اسے جنگل کہا جاتا ہے، آج سپریم کورٹ کی توہین کی گئی ہے، جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ان کی نگاہوں میں سپریم کورٹ کے آرڈر کی کیا حیثیت ہے؟۔تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ مولانا نے اہم ترین قدم اٹھایا کیونکہ ملکی حالات تقاضا کرتے ہیں کہ اپوزیشن ملکر چلیں، جبر سے صوبے نہیں بنائے جائیں گے، ڈاکٹر عشرت حسین ہوں یا کوئی تھنکر، سب کہہ رہے ہیں سب کو لیکر فیصلے کرو۔انہوں نے کہا کہ آج ہم پارلیمان کے اندر اکٹھے ہورہے ہیں، اگلا مرحلہ ملک کی سڑکوں پر اپوزیشن اتحاد ہوگا۔اسد قیصر نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے جتنے بھی قیدی ہیں اْن کو رہا کیا جائے، حکومت نے سپریم کورٹ کے حکم کی توہین کر کے بتادیا کہ ملک میں جنگل کا قانون ہے، صوبوں میں امن و امان کی صورتحال کو قائم کرنا چاہیے، ہم چاہتے ہیں کہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کیا جائے۔قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پاکستان میں الٹی گنگا بہہ رہی ہے، ہم جب یہ بات کرتے ہیں تو یہ لوگ ڈر جاتے ہیں، پاکستان کو بچانا عوام کا کام ہے اپوزیشن نے 27 ستمبر کا احتجاج اور لانگ مارچ برقرار رکھنے کا فیصلہ کرلیا۔اجلاس کے اعلامیہ کے مطابق اپوزیشن کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس محمود خان اچکزئی کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں راجا ناصر عباس، بیرسٹر گوہر علی خان، شاہد خٹک، اسد قیصر، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور سلمان اکرم راجا سمیت دیگر رہنمائوں نے شرکت کی۔اجلاس میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال، بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت، سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد اور آئندہ کی سیاسی حکمت عملی پر تفصیلی غور کیا گیا، اپوزیشن رہنمائوں کا بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یہ بھی کہنا تھا کہ ان کی صحت اور علاج پر کسی قسم کا سمجھوتہ قبول نہیں کیا جائے گا۔اعلامیے میں حکومت پر الزام عائد کیا گیا کہ اس نے بانی پی ٹی آئی کی صحت کے معاملے پر ڈرامہ رچایا ہے، اپوزیشن نے سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد نہ ہونے پر بھی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت عدالتی فیصلے پر عملدرآمد نہ کرکے توہین عدالت کی مرتکب ہوئی ہے۔مشترکہ پارلیمانی پارٹی نے فیصلہ کیا کہ سپریم کورٹ سے توہین عدالت کے معاملے پر رجوع کیا جائے گا، 27 ستمبر کو تحریک انصاف کے بھرپور احتجاج کا فیصلہ بھی برقرار رکھا گیا اور احتجاج و لانگ مارچ میں تمام اپوزیشن جماعتوں کو شرکت کی دعوت دینے پر اتفاق کیا گیا۔اعلامیے میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ پنجاب سمیت ملک بھر میں عوامی رابطہ مہم تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا جب کہ آئین، جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے تحفظ کے لیے مشترکہ جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔اپوزیشن جماعتوں نے آئندہ اہم سیاسی و پارلیمانی فیصلے باہمی مشاورت اور اتحاد کے ساتھ کرنے پر بھی اتفاق کیا، اجلاس میں گرینڈ اپوزیشن الائنس کے قیام کی بھرپور تائید اور اسے فعال بنانے پر اتفاق کیا گیا جب کہ مولانا فضل الرحمان سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں کی گرینڈ اپوزیشن الائنس میں شمولیت کا خیرمقدم کیا گیا۔دوسری جانب اعلامیے میں مزید یہ بھی کہا گیا کہ اپوزیشن اتحاد سے پارلیمان اور عوام میں اپوزیشن کی آواز مزید مضبوط ہو گی۔