بھانجے کو پولیس کیس سے چھڑوانے کی مبینہ کوشش، سب انسپکٹر بہن سمیت حوالات پہنچ گیا

بھانجے کو پولیس کیس سے چھڑوانے کی مبینہ کوشش، سب انسپکٹر بہن سمیت حوالات پہنچ گیا

لاہور: بھانجے کو پولیس کیس سے چھڑوانے کی مبینہ کوشش ایک سب انسپکٹر اور اس کی بہن کے لیے مشکل کا باعث بن گئی۔

کوٹ لکھپت پولیس نے سب انسپکٹر جنید احمد اور اس کی بہن کے خلاف مقدمہ درج کرکے دونوں کو گرفتار کرلیا۔ایف آئی آر کے مطابق سب انسپکٹر جنید احمد اپنی بہن کے ہمراہ تھانہ کوٹ لکھپت پہنچا، جہاں اس کا بھانجا زین علی عرف سورج پہلے ہی ایک مقدمے میں گرفتار تھا۔ پولیس کے مطابق جنید احمد نے مبینہ طور پر اپنے بھانجے کو چھڑوانے کی کوشش کی۔مقدمے کے مطابق اس دوران سب انسپکٹر جنید احمد اور اس کی بہن کی پولیس اہلکاروں کے ساتھ تلخ کلامی ہوئی، جس کے بعد مبینہ طور پر ہاتھا پائی اور گالم گلوچ بھی کی گئی۔ پولیس نے الزام عائد کیا ہے کہ دونوں نے سرکاری امور کی انجام دہی میں رکاوٹ ڈالی اور اہلکاروں کے ساتھ بدسلوکی کی۔انویسٹی گیشن ونگ کے سب انسپکٹر محمد اکبر کی مدعیت میں درج ایف آئی آر کے مطابق جنید احمد باوردی حالت میں تھانے پہنچا تھا۔ اس کے بھانجے زین علی عرف سورج کے خلاف مقدمہ نمبر 4174/26 درج تھا، جس میں کوٹ لکھپت پولیس نے اسے گرفتار کیا تھا۔

پولیس ریکارڈ کے مطابق سب انسپکٹر جنید احمد انویسٹی گیشن ونگ ہیڈ کوارٹر میں تعینات ہے۔ اس کے خلاف اختیارات سے تجاوز، کارِ سرکار میں مداخلت، پولیس اہلکاروں پر حملے اور دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔پولیس نے مقدمہ درج کرنے کے بعد سب انسپکٹر جنید احمد اور اس کی بہن کو گرفتار کرکے حوالات میں بند کردیا۔ واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے، جبکہ مقدمے میں عائد الزامات کی قانونی حیثیت کا تعین تفتیش اور عدالتی کارروائی کے دوران ہوگا۔