نورمقدم کیس، مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت پر نظرثانی درخواست خارج

 اختیار انتہائی محدود،مجرم کا جرم ایسا نہیں تھا کہ اس کی سزا میں کمی کی جا سکے، جسٹس اشتیاق 
اسلا م آباد(آئی این پی )سپریم کورٹ نے نور مقدم قتل کیس میں مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت پر نظرثانی کی درخواست خارج ہونے کا تحریری فیصلہ جاری کردیا۔12صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جسٹس اشتیاق ابراہیم نے تحریر کیا، فیصلے میں کہا گیا استدعا تھی کہ ذہنی مریض ہونے پر سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے،مجرم نے ایسے شواہد پیش نہیں کیے کہ عدالت فیصلے پر نظرثانی کرے۔ریکارڈ سے ثابت ہے کہ مجرم انتہائی سنگین جرم کا مرتکب ہوا ہے،مجرم کا جرم ایسا نہیں تھا کہ اس کی سزا میں کمی کی جا سکے،نظرثانی میں عدالت کا دائرہ اختیار انتہائی محدود ہوتا ہے۔جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اپنے تحریری فیصلے میں مزید کہا کہ نظرثانی کی درخواست کو اپیل کے طور نہیں لیا جا سکتا،یواین رپورٹ کے مطابق 2024میں 50 ہزار خواتین قتل ہوئیں، اسلام نے خواتین کو بے حد تحفظ اور احترام دیا ہے،خواتین پر تشدد شرعی اور دنیاوی قوانین کیخلاف ہے۔5 سال قبل 20 جولائی2021 کو عیدالاضحی کے روز اسلام آباد کے سیکٹر ایف سیون میں ظاہر جعفر نے نور مقدم کو بہیمانہ انداز میں قتل کیا۔