نور مقدم قتل کیس: مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت کا حکم برقرار لڑکا ، لڑکی کا ایک ساتھ رہنے کا رشتہ معاشرے کی بدبختی :سپریم کورٹ

زیادتی کے جرم میں ظاہر جعفر کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل ، اغواء کے جرم میں سزا کم کرکے ایک سال کردی گئی،مالی اور چوکیدار کی سزاؤں میں کمی کرکے رہا کرنے کا حکم 
 دونوں کے درمیان ایسا رشتہ تھا جو یورپ میں عام ہوتا ہے مگر یہاں نہیں،یہ رشتہ نہ صرف مذہب اخلاقیات کے بھی خلاف ہے،جسٹس ہاشم کاکڑ
اسلام آباد (آن لائن)سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے نور مقدم قتل کیس کا فیصلہ سنا دیا، عدالت نے مجرم ظاہر جعفر کی قتل کس میں سزائے موت کا حکم برقرار رکھا،عدالت نے مجرم کو کچھ دفعات میں سزا پر رعایت بھی دے دی، زیادتی کے جرم میں ظاہر جعفر کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کردی گئی، اغواء کے جرم میں 10 سال سزا کم کرکے ایک سال قید بامشقت کردی گئی۔جبکہ مجرم کے مالی اور چوکیدار کی سزاؤں میں کمی کرکے رہا کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ مالی اور چوکیدار جتنی سزا کاٹ چکے ہیں وہ کافی ہے۔یہ فیصلہ نور مقدم قتل کیس میں مجرم ظاہر جعفر کی سزاؤں کے خلاف اپیل کی سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران وکلاء کے دلائل مکمل ہونے پرسنایاگیا،جبکہ جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ کیس میں بہت سے حقائق تسلیم شدہ ہیں اور ان پر دلائل دینے کی ضرورت نہیں۔ مجرم اور مقتولہ ایک ساتھ رہتے تھے، یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے۔ دونوں کے درمیان ایسا رشتہ تھا جو یورپ میں عام ہوتا ہے مگر یہاں نہیں۔ لڑکا اور لڑکی کا ایک ساتھ رہنے کا رشتہ ہمارے معاشرے کی بدبختی ہے، اور اس قسم کا رشتہ نہ صرف مذہب بلکہ اخلاقیات کے بھی خلاف ہے۔ نور مقدم خود اْس گھر میں آئی تھی، کیا اس سے اغواکی سزا کم ہو جاتی ہے؟ اگر سی سی ٹی وی ویڈیو نہ بھی ہو تو نور مقدم کی لاش کا مجرم کے گھر سے ملنا ہی کافی ہے۔انھوں نے یہ ریمارکس منگل کے روزدیے ہیں۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کیس کی سماعت کر رہا ہے۔ مجرم ظاہر جعفر کے وکیل سلمان صفدر نے دلائل پیش کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ پراسیکیوشن کا سارا کیس سی سی ٹی وی فوٹیج اور ڈی وی آر پر مبنی ہے، اور اپیل کنندہ کے خلاف شواہد کا شک و شبہ سے بالاتر ہونا ضروری ہے مجرم کے وکیل سلمان صفدر نے جائے وقوعہ سے برآمد سی سی ٹی وی فوٹیجز کے حوالے سے کہا کہ عدالت ان فوٹیجز سے باہر بطور شواہد نہیں جا سکتی۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں پراسیکیوشن کی فوٹیج چلانے کی کوشش کی گئی، مگر وہ چل نہ سکی، اور جو ویڈیو چلائی گئی وہ وکیل کی فراہم کردہ یو ایس بی سے چلائی گئی تھی۔جسٹس ہاشم کاکڑ نے ان دلائل پر ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جس سی سی ٹی وی فوٹیج پر اعتراض اٹھایا جا رہا ہے، اسے آپ پہلے ہی تسلیم کر چکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب فرانزک لیبارٹری نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ فوٹیج میں نہ کوئی ٹیمپرنگ ہوئی ہے اور نہ ہی چھیڑ چھاڑ کی گئی۔ جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اگر کوئی انسان ویڈیو بناتا تو اعتراض ہو سکتا تھا، مگر اس ویڈیو کے معاملے میں کوئی انسانی مداخلت ہے ہی نہیں کیونکہ یہ سی سی ٹی وی کیمرے کے ذریعے ریکارڈ ہوئی ہے۔سلمان صفدر کے دلائل مکمل ہونے کے بعد چوکیدار اور مالی کے وکیل نے دلائل کا آغاز کیا۔ وکیل نے بتایا کہ چوکیدار اور مالی کو دس، دس سال کی سزا سنائی گئی ہے، جبکہ ان پر الزام صرف یہ ہے کہ انہوں نے مقتولہ کو جانے سے روکا۔ جسٹس علی باقر نجفی نے اس پر ریمارکس دیے کہ اگر مجرمان مقتولہ کو نہ روکتے تو معاملہ کچھ اور ہوتا۔ وکیل نے مؤقف اپنایا کہ مالی اور چوکیدار کی گھر میں موجودگی کے علاوہ ان پر کوئی جرم ثابت نہیں ہوا۔ اس پر جسٹس ہاشم کاکڑ نے طنزیہ انداز میں کہا کہ تنخواہ سے زیادہ کام کرنے کی کیا ضرورت تھی۔چوکیدار اور مالی کے وکیل کے دلائل مکمل ہونے کے بعد نور مقدم کے وکیل شاہ خاور نے دلائل کا آغاز کیا، تاہم عدالت نے دیگر کیسز کے باعث سماعت میں وقفہ کر دیا۔وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ کیس میں بہت سے حقائق تسلیم شدہ ہیں اور ان پر دلائل دینے کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجرم اور مقتولہ ایک ساتھ رہتے تھے، یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں کے درمیان ایسا رشتہ تھا جو یورپ میں عام ہوتا ہے مگر یہاں نہیں۔جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ لڑکا اور لڑکی کا ایک ساتھ رہنے کا رشتہ ہمارے معاشرے کی بدبختی ہے، اور اس قسم کا رشتہ نہ صرف مذہب بلکہ اخلاقیات کے بھی خلاف ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نور مقدم خود اْس گھر میں آئی تھی، کیا اس سے اغواء کی سزا کم ہو جاتی ہے؟انہوں نے واضح کیا کہ اگر سی سی ٹی وی ویڈیو نہ بھی ہو تو نور مقدم کی لاش کا مجرم کے گھر سے ملنا ہی کافی ہے۔جسٹس باقی نجفی نے سوال اٹھایا کہ کیا نور مقدم کا موبائل فون ریکور کیا گیا؟ اس پر پراسیکیوشن کے وکیل شاہ خاور نے جواب دیا کہ کال ریکارڈ تو موجود ہے لیکن موبائل فون تحویل میں نہیں لیا گیا۔ نور مقدم قتل کیس کی سماعت وقفے کے بعد شروع ہواتواس دوران جسٹس اشتیاق نے کہاکہ ڈی این اے پر عدالت کی معاونت کریں، جسٹس باقرنجفی نے کہاکہ چاقو کے اوپر فنگر پرنٹ نہیں ہیں لیکن خون خاتون کا ہے، جسٹس ہاشم نے کہاکہ خون کسی انسان کا ہی ہے لیکن ہے کس کا، ڈی وی آر میں بچی کو دوسرے فلور سے چھلانگ لگاتے دیکھا جا سکتا یے، وکیل نے کہاکہ عدالتوں میں دو دو دن کی ڈی وی آرز چلائی گئی ہیں، ڈی وی آر اس وقت تک مکمل دستیاب ہے،عدالت نے نور مقدم کے مجرم ظاہر جعفر کی اپیل خارج کردی،: عدالت ظاہر جعفر کے خلاف قتل کی دفعات میں سزائے موت برقرار رکھی ہے،جسٹس ہاشم کاکڑنے نور مقدم قتل کیس کا مختصرفیصلہ سنایا مجرم ظاہر جعفر کی قتل کے جرم میں سزائے موت برقراررکھاگیا،جبکہ ریپ میں سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرد ی گئی،اوراغوائکے مقدمہ میں دس سال سزا کم کرکے ایک سا