آپ کو اپنے سٹائل کی جمہوریت مبارک ہو عدالتی احکامات کی خلا ف ورزی ہوئی‘قومی اسمبلی سے مستعفی ہو سکتے ہیں بیرسٹرگوہر

بانی کو ہسپتال منتقل کرنا اور وہاں رکھنا عدالتی فیصلے کے تحت لازم تھا ، جو کچھ ہوا اس کی توقع نہیں تھی، بہت بڑی بدقسمتی ہے ، کوئی ہے جو نہیں چاہتا  مسائل کا حل نکلے
ایسے مذاکرات نہیں ہوتے، اگر سپریم کورٹ کے ایک حکم پر عمل درآمد کرنا بھی مشکل ہے، تو جمہوریت ایسے نہیں چلا کرتی :چیئرمین پی ٹی آئی کی میڈیا سے گفتگو
اسلام آباد(آئی این پی ) چیئرمین  پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے  بانی کو ہسپتال منتقل کرنا اور وہاں رکھنا عدالتی فیصلے کے تحت لازم تھا، بڑی بدقسمتی ہے، جو کچھ ہوا، اس کی توقع نہیں تھی، کوئی ہے جو نہیں چاہتا کہ مسائل کا کوئی حل نکلے، ہم نے تو بڑی کوشش کی، سپریم کورٹ کا آرڈر بڑا واضح تھا،اگر اس میں کوئی ابہام تھا تو اس پر نظرِثانی کی جا سکتی تھی۔ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہسپتال سے اڈیالہ جیل منتقلی پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے برسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے آرڈر میں کسی قسم کا ابہام نہیں تھا۔ اس لئے   خان صاحب کو وہاں منتقل کرنا، وہاں رکھنا اور ان کے ٹرسٹ وغیرہ سے متعلق امور کو قانون اور سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق انجام دینا لازم تھا۔  لیکن دیکھتے ہیں آگے کیا کرتے ہیں۔توہینِ عدالت ایک الگ چیز ہے، لیکن ہم تو یہ کوشش کرتے رہے کہ جو سیاسی مسائل ہیں، ان کا سیاسی حل نکلے۔انہوں نے کہا کہ جو کچھ ہوا، اس کی توقع نہیں تھی۔ جو ہمیں بتایا گیا تھا کہ اس پر عمل درآمد ہوگا، جو مجھے بتایا گیا، میں نے خود اس کی تصدیق بھی کی تھی۔ پہلے بھی دو دن بتایا گیا، کل بھی مجھے اطلاع دی گئی۔ اس کی بالکل توقع نہیں تھی کہ کسی اور ہسپتال میں منتقل کیا جائے گا، یا کس ہسپتال میں منتقل کیا گیا ہے، یہ بھی نہیں بتایا جائے گا۔