وزیراعظم، وفاقی وزرا، وزرائے اعلی اور دہلی حکومت کے وزرا ہٹائے جا سکیں گے
کوئی رہنما 30 دن مسلسل 5 برس یا زائد سزا کے مقدمے میں گرفتار رہے تو ہٹانے کا اختیار ہوگا
نئی دہلی (آئی این پی )بی جے پی کی کٹھ پتلی مودی سرکار کے متنازع ترمیمی بل پر بھارتی اپوزیشن نے لوک سبھا میں شدید احتجاج کیا ہے۔آئینی ترمیم کی آڑ میں بی جے پی نے اپوزیشن کی نااہلی کا شکنجہ تیار کرلیا ہے اور بی جے پی اپوزیشن رہنمائوں کو حراست میں رکھ کر وزارتوں سے برطرف کرنے کی سازش میں مصروف ہے۔بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے لوک سبھا میں 3 بڑے آئینی و قانونی بل پیش کیے ہیں، جن کا مقصد سنگین فوجداری مقدمات میں زیرِ حراست اعلی عہدیداروں کو نااہل قرار دینا ہے۔رپورٹ کے مطابق آئین میں 130ویں ترمیم کے تحت بل میں آرٹیکل 75، 164 اور 239AA میں تبدیلی کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ 130ویں ترمیم کے تحت وزیراعظم، وفاقی وزرا، وزرائے اعلی اور دہلی حکومت کے وزرا ہٹائے جا سکیں گے۔ اگر کوئی رہنما 30 دن مسلسل 5 برس یا زائد سزا کے مقدمے میں گرفتار رہے تو اسے ہٹانے کا اختیار ہوگا۔ٹائمز آف انڈیا کے مطابق ترمیم کے تحت رہائی کے بعد دوبارہ تقرری کا راستہ کھلا ہوگا۔